سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 550
492 کیا کہ حضرت صاحب کی موجودہ حالت کے پیش نظر میرا یہاں ٹھہرنا ضروری ہے اس لئے میں تو جا نہیں سکتا۔میں نے ان کے قادیان آنے کا ذکر بھی حضرت صاحب سے نہ کیا اور وہ واپس چلے گئے لیکن جب سات یوم بھی ختم ہونے لگے تو پھر سب ماجرا حضرت صاحب سے کہہ دیا۔اس پر چونکہ حضرت صاحب میرا موجود رہنا ضروری سمجھتے تھے مجھ سے یہ معلوم کرتے ہوئے کہ مجھے تین ماہ کی رخصت کا حق حاصل ہے حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی کو فوری طور پر پٹیالہ بھجوا دیا تا کہ وہ کوشش کر کے میری تین ماہ کی رخصت منظور کروا ئیں۔چنانچہ وہ مردِ خدا پٹیالہ پہنچ کر بجائے اس کے میرے افسر سول سرجن کو یا ان کے اوپر چیف میڈیکل آفیسر کرنل لین کو ملتے وہ ہوم سیکرٹری کو جن کے ماتحت میڈیکل ڈیپارٹمنٹ تھا جا ملے اور تین ماہ کی رخصت منظور کروالی۔اور ہوم منسٹر نے فون کے ذریعہ چیف میڈیکل آفیسر کو رخصت منظور کر دینے کا کہہ دیا اور حضرت عرفانی صاحب خود خوش خوش واپس قادیان آئے اور حضرت صاحب کی اور میری خوشی کا موجب بنے۔ہوم منسٹر کے اس حکم کو پالینے کے بعد کہ میری رخصت منظور کی جائے چیف میڈیکل آفیسر نے مجھے رخصت کی منظوری کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا کہ : - آپ بہت اچھی خدمت پر لگے ہوئے ہیں آپ کو اگر کچھ دوائیوں کی ضرورت ہو تو لکھیں۔یہاں سے بھجوا دی جائیں گی۔“ حالانکہ انہی میڈیکل آفیسر صاحب نے میری سات روز کی رخصت طلب کرنے پر سخت قسم کی دھمکی آمیز چٹھی مجھے لکھی تھی۔یہ واقعہ حضور کے خدا کی مقبول ہستی ہونے کی دلیل ہے۔ایاز محمود جلد اول صفحه ۶۷ تا ۷۰ ) مکرم ڈاکٹر میجر شاہنواز صاحب حضور سے عقیدت و ارادت کا خاص رنگ رکھتے تھے۔مندرجہ ذیل واقعات اور تاثرات سے سیرت کے رنگا رنگ پہلو نظر آتے ہیں۔عاجز حضرت چوہدری مولا بخش صاحب سیالکوٹی کا دوسرا لڑکا ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفیق تھے۔خاکسار بھی رفیق ہے کیونکہ میں نے