سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 545
487 کروں دل میں محسوس کرتا تھا کہ جدائی کا ارادہ کر لینا تو آسان ہے مگر جدا ہو جانا خواہ چند دن کے لئے ہی ہو سخت مشکل ہے۔آہ ! وہ اپنے دوستوں سے رخصت ہونا، ان دوستوں سے جن سے مل کر میں نے عہد کیا تھا کہ اسلام کی عظمت کو دنیا میں قائم کروں گا اور خدا تعالیٰ کے نام کو روشن کروں گا ہاں ان دوستوں سے جن کے دل میرے دل سے اور جن کی روحیں میری روح سے اور جن کی خواہشات میری خواہشات سے اور جن کے ارادے میرے ارادوں سے بالکل متحد ہو گئے تھے حتی کہ اس شعر کا مضمون ہم پر صادق آتا تھا کہ من تو محمدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تاکس نه گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری! کیسا اندوہناک تھا ، کیسا حسرت خیز تھا ، وہ دل جو اس محبت سے نا آشنا ہے جو مجھے احمدی جماعت سے ہے اور وہ دل جو اس محبت سے نا آشنا ہے جو احمدی جماعت کو مجھ سے ہے وہ اس حالت کا اندازہ نہیں کر سکتا اور کون ہے جو اس درد سے آشنا ہو جس میں ہم شریک ہیں کہ وہ کیفیت کو سمجھ سکے۔لوگ کہیں گے کہ جُدائی روز ہوتی ہے اور علیحدگی زمانے کے خواص میں سے ہے مگر کون اندھے کو سورج دکھائے اور بہرے کو آواز کی دلکشی سے آگاہ کرے۔اس نے کب اللہ اور فی اللہ محبت کا مزہ چکھا کہ وہ اس لطف اور اس درد کو محسوس کرے اس نے کب اس پیالہ کو پیا کہ وہ اس کی مست کر دینے والی کیفیت سے آگاہ ہو دنیا میں لیڈر بھی ہیں اور ان کے پیر و بھی، عاشق بھی ہیں اور ان کے معشوق بھی محت بھی ہیں اور ان کے محبوب بھی۔مگر ہر گئے را رنگ و بُوئے دیگر است کب ان کو اس ہاتھ نے تاگے میں پرویا جس نے ہمیں پرویا ؟ آہ! نادان کیا جانیں کہ خدا کے پروئے ہوؤں اور بندوں کے پروئے ہوؤں میں فرق ہوتے ہیں۔بندہ لاکھ پر وئے پھر بھی سب موتی جدا کے جدا رہتے ہیں۔مگر خدا کے پروئے ہوئے موتی کبھی جدا نہیں ہوتے۔وہ اس دنیا میں بھی اکٹھے رہتے ہیں اور اگلے جہاں میں بھی اکٹھے ہی رکھے جاتے ہیں۔پھر ان کے دلوں