سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 542
484 دوستوں کے جذبات محبت و اخلاص اور ہر اس جان میں ایک جنگ ہو رہی تھی۔اگر خدانخواستہ پاؤں پھسل گیا یا دھکا لگا تو کیا نتیجہ ہوگا ذرا بھی پرواہ نہ کی۔گاڑی اپنی رفتار سے دوڑتی تھی اور احباب ساتھ ساتھ دوڑتے اور مصافحہ کرتے تھے وہ وقت خطرہ کا تھا اگر ایک ہی آدمی ہوتا تو ممکن تھا خطرہ کم ہوتا مگر جب ایک کثیر تعداد دوڑتی ہوئی جا رہی ہو تو خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ایک دوسرے کے دھگا کا بھی خطرہ ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس روح کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی جب تک کوئی قوم کوئی جماعت اپنے اندر یہ شعور پیدا کر کے یہ فیصلہ نہیں کر لیتی کہ وہ اپنے امام کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے انشراح تام رکھتی ہے اس وقت تک اس کی کامیابی اور ترقی کا خیال ایک موہوم خیال ہوتا بہر حال یہ نظارہ محبت امام کا ایک پیارا منظر تھا جس کے ساتھ دیکھنے والوں کے لئے خوفناک منظر تھا اور خطرہ تھا کہ کسی کو نقصان نہ پہنچ جائے۔مگر یہ جماعت مخلصین دوڑتی رہی جب تک پلیٹ فارم ختم نہ ہو گیا اور ریل کی تیز رفتاری نے اسے پیچھے نہ ڈال دیا۔پائدانوں پر جو جماعت تھی وہ کھڑی رہی۔آپ کی گاڑی کا کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا مگر پھر بھی آپ نے کسی کو اندر آنے سے روکنے نہیں دیا۔یہ اسی محبت کا نتیجہ تھا جس سے یہ کشش اور جذب لوگوں میں پیدا ہوا۔حقیقت میں آپ کی اسی محبت کی تاریں ہی تو تھیں جو دوسروں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔۔۔۔۔گرمی کا موسم ہے اور ہجوم کا صحت پر بُرا اثر پڑتا ہے مگر باوجود اس کے نہایت خوشی اور خندہ پیشانی سے مخلوق کو اندر جمع کر رہے ہیں یہ حقیقت ہے اس امر کی کہ محبت محبت کو پیدا کرتی ہے۔غرض گاڑی کی تیزی رفتار نے نظروں سے بٹالہ کے منظر کو چھپا دیا مگر پائدانوں پر چڑھی ہوئی مخلوق اور اس نظارہ کا تصور دماغ میں اس کی یاد تازہ کرتا جاتا تھا کہ ہم امرتسر پہنچے بٹالہ سے امرتسر تک کے سٹیشنوں پر زائرین کا ایک تانتا الفضل ۲۲۔جولائی ۱۹۲۴ء صفحہ ۲۱) بندھا ہوا تھا۔ان تأثرات کو پڑھ کر حضور سے جماعت کی والہانہ محبت وعقیدت کا اندازہ ہوتا ہے مگر