سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 541
483 اور دلدادہ ہے اور یہی وہ چیز ہے جو جماعت کی زندگی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے امام کے دل میں اس کے لئے تڑپ اور جذبہ ہے۔غرض ان جذبات کے ساتھ ہمارے امام نے جماعت کو خدا حافظ کہا اور بحیرہ عرب کے پانیوں پر جہاز نے حرکت شروع کی۔حضرت سفر یورپ پر روانہ ہو چکے ہیں راستے میں احباب جماعت کی عقیدت و محبت کے بے نظیر مظاہرے ملاحظہ ہوں۔بٹالہ اسٹیشن پر گاڑی آچکی تھی جب حضور کی موٹر سٹیشن پر آئی۔دیر سے پہنچنے کی وجہ ایک تو بشر الدعا پر لوگوں کے مصافحہ کرنے میں بہت وقت صرف ہوا۔پونے دس کے قریب وہاں سے روانہ ہوئے تھے پھر راستہ میں موٹر اپنی معمولی امراض میں مبتلا ہوتے رہے اور حضرت اگر کچھ آگے نکل جاتے تو ٹھہر کر دوسری موٹر کا انتظار فرماتے باوجود یکہ وقت تنگ ہور ہا تھا اور خدام سفر گھبرا رہے تھے کہ مبادا ٹرین نکل جاوے مگر حضرت کے چہرہ پر اطمینان اور مستقل مزاجی کی رو دوڑتی نظر آتی تھی باوجود یکہ موٹر دیر سے پہنچے اور گاڑی بھی آچکی تھی لیکن آپ اسی اطمینان سے اُترے اور احباب سے مصافحہ کرنے میں مصروف ہو گئے۔بٹالہ سٹیشن پر احباب و خدام اور دوسرے لوگوں کا اس قدر مجمع ہو گیا تھا کہ جماعت بٹالہ نے باوجود یکہ فوٹو کا انتظام کیا ہوا تھا مگر اس میں کامیابی نہ ہو سکی جس طرح سمندر میں موج اٹھتی ہے اسی طرح انسانوں کی یہ متحرک موج ایک عجیب منظر پیش کرتی تھی۔چونکہ بٹالہ باب القادیان ہے اس لئے قادیان کے اکثر احباب بھی مشایعت کے لئے یہاں آئے اور بعض ان میں سے سہارنپور تک پہنچے گاڑی کی روانگی کا نظارہ قابل دید تھا سینکڑوں آدمی پائدانوں پر کھڑے تھے اور سینکڑوں کی تعداد میں گاڑی کے ساتھ دوڑتے تھے اور اپنی انتہائی کوشش سے ایسی مسابقت کرنا چاہتے تھے کہ اس سے آگے نکل کر اپنے آقا کے پاس پہنچ جاویں اور مصافحہ کر لیں۔دراصل نفسیات کا یہ ستر ہے کہ جب کسی چیز کی محبت غالب آ جاتی ہے تو اس کے لئے انسان ہر قسم کی قربانی کی کہ اپنی جان کو بھی قربان کر دینا آسان سمجھتا ہے۔ان