سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 540
482 بے شک ایسے جذبات کا اثر ہو سکتا ہے وہ ماں جو اپنے بچے سے الگ ہو اور اسکے اور اسکے بچہ کے درمیان کوئی چیز ایسی حائل ہو جا وے جو اس تک پہنچنے نہ دے اسی کیفیت کا اندازہ کرو۔جہاز کی حرکت کے ساتھ آپ ادھر سے اُدھر ہوتے اور قلبی برقیت کے ذریعہ حاضرین پر اثر ڈال رہے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساحل پر کھڑے ہوئے احباب بھی اس حرکت کے ساتھ ادھر سے اُدھر ہونے لگے۔ایک حقائق سے نا آشنا اس کو محض عقیدت کا نتیجہ کہے گا مگر میں ( حضرت یعقوب علی عرفانی ) ایک یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ کوئی چیز اندر ہی اندر حرکت دے جاتی تھی ، ساحل کے احباب دوڑتے ہوئے دوسری گودی پر آ رہے تھے انکی بے اختیاری اس کیفیت کو ظاہر کرتی تھی کہ وہ خود نہیں بلکہ کھچے چلے آ رہے ہیں۔محبت کے جذب و کشش کی اس زبر دست قوت کو ہر شخص سمجھ بھی نہیں سکتا۔آخر جہاز نے ہم کو دوستوں کی اور دوستوں کو ہماری نظروں سے تو غائب کر دیا مگر اس کیفیت کا اثر دماغ اور دل پر مستولی ہے۔اور ان اثرات نے با وجود جسمانی بعد کے انہیں اور بھی قریب کر دیا۔اس وقت حضرت نے فرمایا ایک چھوٹی سے لاسلکی ہوتی جس سے میں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتا اور جماعت والے اس کے ذریعہ سے وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ کہتے۔بے شک اس وقت حضرت امام کے پاس وہ لاسکی نہ تھی جو مارکونی نے ایجاد کی ہے مگر وہ لاسلکی تھی اور ہے اور رہے گی جو دل را بدل راھست“ کی مصداق ہے حضرت کا یہ ارشاد یقیناً ہر قلب پر اپنا اثر اور پر تو ڈال رہا تھا اور السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کا تبادلہ کر رہا تھا میں ہر اس دوست سے پوچھتا ہوں جو اس د چٹھی کو پڑھ رہا ہے کہ کیا اس کا قلب حضرت امام کے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کی صدا کو محسوس نہیں کرتا ؟ لاسلکی ہو یا نہ ہو آواز آئے یا نہ آئے تاثری کیفیت پیدا ہو یا نہ ہومگر یہ خواہش کسی چیز کا اظہار کرتی ہے کہ وہ اپنی جماعت کی سلامتی کا کس قدر متمنی