سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 539 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 539

481 میں کیا کیفیت تھی کہ ایک بجلی سی کوندی جس نے تختہ جہاز پر اور ساحل پر کھڑے ہوئے بھائیوں کی آنکھوں میں ایک رو پیدا کر دی جوں جوں دعا میں وقت لمبا ہوتا تھا قلوب رب العرش کے حضور خشوع اور خضوع کے ساتھ پانی ہو رہے تھے یہاں تک کے جہاز کی روانگی کا وقت گزرنے لگا مگر افسرانِ جہاز پر بھی ایسی محویت تھی کہ وہ نہ دعا کو ختم کرنے کے لئے کہہ سکتے تھے اور نہ جہاز روانہ کر سکتے تھے۔آخر آپ نے دعاختم کی اور دعا کے ساتھ آسمان سے ترشح شروع ہوا جسے میں اس دعا کی قبولیت کا نشان سمجھتا ہوں۔ہم نے دعاؤں کے ساتھ ایک دوسرے کو رخصت کیا السَّلَامُ عَلَيْكُم اور خدا حافظ کے نعروں سے فضا گونجی ایک طرف ہوا میں رومال اُڑ رہے تھے اور ہاتھ سے الوداع کہا جا رہا تھا دوسری طرف خدا حافظ اور السَّلَامُ عَلَيْكُم کی صدا ئیں تھیں جو مادیات کے سمندر کو حرکت میں لا رہی تھیں لوگوں کو حیرت تھی اور خدا سے دور اور نا واقف لوگوں کو اگر حیرت نہ ہو تو کیا ہو تختہ جہاز پر ایک خاص کیفیت محسوس ہوتی تھی آپ کی حالت اس وقت قابل نظارہ تھی جہاز ایک خاص دُخانی کشتی کے ذریعہ حرکت دیا جا رہا تھا جماعت کے لوگ کنارے پر کھڑے تھے حضرت دل میں دعا کر رہے تھے پھر یکبارگی آپ کو جوش آیا اور آپ نے دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے انسانی جذبات کا اثر آپ کی آنکھوں سے نمایاں ہو گیا اور پُر نم آنکھوں کے ساتھ آپ نے دعا کی اور بڑی لمبی دعا کی جماعت کے وہ لوگ جو اس وقت ساحل سمندر پر تھے خصوصاً اور تمام جماعت مبارک باد کے قابل ہے کہ اسکے حق میں حضرت امام نے اس وقت خاص طور پر دعا کی اور دعا معمولی دعا نہ تھی بلکہ اس دعا میں وہ جوش، وہ کرب اور اضطراب ملا ہوا تھا جو قبول ہونے والی دعا کے اجزاء لازمہ ہیں۔آپ دیر تک دعا کرتے رہے دعا کے بعد ایک اور عالم آپ پر طاری ہوا۔جہاز کی حرکت کے ساتھ جماعت کے لوگ چدھر سے قریب ہوتے آپ دوڑ کر اُدھر ہوتے اور اپنے قریب پا کر پھر دعا کرتے آپ کا اس وقت ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر دوڑنا ایک کیفیت پیدا کرتا تھا۔ماں کی محبت میں