سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 521 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 521

463 ہے۔حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے مزار پر دعا کے لئے۔میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی حضور راستہ میں ہمارا گاؤں برلب سڑک ہے۔سیدوں کا علاقہ میں بڑا اثر ہے آپ جاتے یا آتے وقت وہاں ٹھہریں اور کچھ ناشتہ بھی کریں۔حضور نے فرمایا اختر صاحب کے ساتھ بات کریں۔حضور ایبٹ آباد چلے گئے مکرم محمد عرفان خان صاحب موجودہ امیر ضلع رات کو واپس آئے تو مجھے پیغام دیا کہ حضور نے پھگلہ ہمارے گاؤں آنا منظور فرمالیا ہے اور ہلکا ناشتہ کریں گے۔میں نے گاؤں میں حضرت والد صاحب کی خدمت میں پیغام بھجوا دیا۔گاؤں پکی سڑک سے ذرا فاصلہ پر ہے اور کچھی سڑک جاتی ہے۔ہماری برادری کے عزیز غیر احمدی ہیں لیکن حضور کا سن کر بے حد خوش ہوئے کچی سڑک کے کھڑے وغیرہ خود انہوں نے ٹھیک کئے۔میں ۱۹ کو ہنزہ رہا اور ۲۰ کو دوسرے تین چار دوستوں کے ساتھ ہنزہ سے بالا کوٹ تک حضور کے ساتھ رہا بالاکوٹ اور مزار سید احمد صاحب پر بھی ساتھ ساتھ ہی رہا۔واپسی پر ایک اونچی جگہ ایک احمدی دوست محمد زمان خان صاحب کے مکان پر بالا کوٹ کے دوستوں نے حضور کے ٹھہرنے کا انتظام کیا تھا۔حضور کو اوپر جانے میں تکلیف محسوس ہوتی تھی۔ایک پاؤں میں کچھ کمزوری اور شاید نقرس کا درد تھا۔جماعت کے دوستوں کی دلداری کے لئے حضور نے اوپر جانا منظور کیا لیکن اختر صاحب نے اونچی آواز سے کہا کہ کسی پہاڑی آدمی کو بلاؤ کہ حضور کو سہارے سے لے جائے۔میں پاس تھا میں نے کہا کسی اور پہاڑی آدمی کی کیا ضرورت ہے ہم خود بھی پہاڑی ہیں۔حضور نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سہارے سے اوپر تشریف لے گئے۔پھر بعد میں وہاں سے روانہ ہو کر سیدھے پھگلہ تشریف لے آئے مع اہل خانہ۔اور عملہ مانسہرہ کے بھی کافی دوست بلائے تھے گاؤں کی برادری بھی جمع تھی میں سخت فکر مند تھا کہ اللہ پاک کرے کوئی ایسی بات نہ ہو جائے کہ حضور خفا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا بے حد احسان ہوا کہ حضور بے حد خوش ہوئے اور فرمانے لگے کلو کی طرح وادی ہے۔ایبٹ آباد جا کر بھی خوشنودی کا اظہار ہی فرمایا۔اس ناچیز کی دعوت کو قبول کرنا حضور کے حسن و احسان کی مثال ہے۔حضور کی برکت کے طفیل