سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 510
452 چلے جاتے اور ایک پیالی چائے اور دو بسکٹ کھا کر ذرا استراحت فرماتے اور جب سورج نکل پڑتا بوقت سات بجے آپ میرے اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے ساتھ شامل ہو جاتے اور محلہ دارالانوار کی طرف ہم نکل جاتے اور کوئی گھنٹہ تک سیر کر کے واپس آ جاتے تو واپسی کے وقت حضور قصر خلافت والی گلی کی ڈیوڑھی سے واپس گھر میں جاتے۔ایک دن ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب نے بڑے تعجب کا اظہار کیا۔کہ حضور سیر سے واپسی کے وقت گھر میں جانے سے پہلے بیت الدعا کے نیچے گلی میں کھڑے رہے اور مجھے فرمایا کہ بات کرتے جاؤ اور میں اس وقت ہو میو پیتھی کے اپنے تجربات بیان کر رہا تھا۔(iii) ۱۹۵۲ء میں میری سابقہ بیوی فوت ہوگئی اور ۱۹۵۴ء میں ایک اور خاتون سے میں نے شادی کی جو اس وقت میرے گھر میں موجود ہے ان سے مجھے معلوم ہوا کہ جب انہوں نے حضور سے میرے ساتھ نکاح کرنے کا مشورہ کیا تو حضور نے میری سفارش کی اور ان کے سامنے میری تعریف کی اور حضور نے مشورہ دیا کہ وہ اچھے آدمی ثابت ہونگے اور یہ کہ آپ اس رشتہ کو ضرور قبول کریں، میں خدا کے فضل سے دیانتداری سے یہ لکھوا رہا ہوں کہ میں نے حضور سے اس بارے میں پہلے کچھ بھی عرض نہیں کیا۔یہ حضور کی شفقت اور ہمدردی کا نتیجہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس بیوی سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی عطا فرمائی جب کہ لڑکا سال ڈیڑھ سال کا تھا تو میری بیوی حضور کی خدمت میں بچے کو لے کر حاضر ہوئی اور حضور سے یہ بات دریافت کی کہ اس لڑکے کا نام حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے اسماعیل احمد رکھا ہے بشرطیکہ آپ اس کو منظور فرماویں۔تو حضور نے لڑکے کو گود میں لیا اور اس کو پیار کرتے رہے اور دیر تک گود میں اٹھا کر باتیں کرتے رہے اور آپ نے فرمایا کہ ہم بڑی خوشی سے منظور کرتے ہیں اور نیز میری اہلیہ سے فرمایا کہ آپ میری بھاوج ہیں۔اس واسطے میں حکیم صاحب کی بچپن کی ساری کہانی آپ کو بتاتا ہوں اس وقت آپ بڑی خوشی کے موڈ میں تھے اور بچپن کی باتیں بتا کر خوش ہو رہے تھے۔پرانے تعلقات اور دوستی کو نبھانے کے ساتھ ساتھ جماعتی وقار اور نظام کی بہتری کے لئے ////