سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 509 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 509

451 وو بڑے بڑے حضور کے عاشق ہیں جو دن رات دعا میں ہی کرتے رہتے ہیں۔اس غیر معمولی محبت اور عشق کی آخر کیا وجہ ہے۔اس کی وجہ یہی ہے که خود حضرت اقدس بھی جماعت کے لئے نہایت درد دل سے دعائیں کرتے ہیں۔انہی دعاؤں کا عکس جماعت کے احباب کے دلوں پر پڑتا ہے اور وہ بھی حضور کے لئے دعا کرتے ہیں۔“ (الفضل ۱۹۔جون ۱۹۴۳ء صفحہ۱) مکرم شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی اپنی پرانی خوشگوار یادوں کو تازہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : - میں آپ کا بچپن کا دوست ہوں میں نے اپنی زندگی بھر اس امر کو محسوس کیا ہے کہ خلافت سے پہلے اور خلیفہ ثانی ہونے کے بعد اور آخری عمر تک ، حضور کی خدمت میں خاکسار جب بھی حاضر ہوا میرے اس پرانے تعلق کا لحاظ رکھا اور غائبانہ بھی میری ہمدردی کرتے رہے۔مثلاً :- (۱) ۱۹۴۰ء میں میرے ایک لڑکے کی جس کی بارہ سال عمر تھی وفات ہو گئی۔آپ نے حضرت سید سرور شاہ صاحب جو میرے اور آپ کے استاد تھے کے ذریعہ مجھے مشورہ بھجوایا کہ مجھے دوسری شادی کر لینی چاہئے۔(ii) آپ کو ہومیو پیتھی کا شوق پیدا ہوا تو میں بھی لاہور میں ملازمت کے ساتھ ساتھ ہومیو پیتھی کا مطالعہ کر کے اس کی پریکٹس کرتا تھا۔ایک وقت ایسا آیا کہ میرا بال بچہ قادیان میں رہتا تھا اور میں لاہور میں ملازمت کرتا تھا تو میں جب بھی ملتا مجھے بہت سارا وقت از راه شفقت دے دیتے اور ہومیو پیتھی کے تجربات مجھ سے سنتے رہتے۔میں ایک دفعہ دو ماہ کی رخصت پر آیا تو میں نے ملاقات کے وقت یہ عرض کیا کہ صبح کی سیر کے لئے اگر کچھ وقت نکالیں تو میں محلہ دار الفضل سے آپ کے ساتھ آ کر شامل ہو جایا کروں۔حضور نے فرمایا انشاء اللہ وقت نکالیں گے۔بعد میں حضور نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے ذریعہ مجھے کہلا بھیجا کہ حضور کل سے بعد نماز فجر سیر کے لئے تشریف لے جایا کریں گے۔میں نے اس شوق سے محلہ دارالفضل سے آکر نماز فجر مسجد مبارک میں پڑھنی شروع کر دی۔تو حضور کا عمل یہ دیکھا کہ نماز فجر کے بعد حضور فورا گھر ///// //////////