سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 489 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 489

431 پہنچے تو بارش اتنی تھی کہ نہر کی پڑی پر موٹر چلنی مشکل ہو گئی۔ہم بھی نیکر میں پہنے ساتھ تھے۔سڑک خراب موٹر آہستہ آہستہ چلتی جاتی تھی حضرت صاحب والنٹیئرز کو اپنے ہاتھ سے کبھی سیب اور کبھی اور پھل وغیرہ دیتے جاتے تھے۔جب گورداسپور پکی سڑک پر پہنچ گئے تو حضرت صاحب نے ۱۵ روپے دیئے اور فرمایا کہ ڈلہوزی فون کر دیا جائے کہ بارش کی وجہ سے ہم تیسری سروس سے آئیں گے دوسری سروس نکل گئی ہے تا کہ ان کو پریشانی نہ ہو اور فرمایا کہ کھانا وغیرہ کھانا اور آرام کر کے واپس قادیان چلے جانا۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ حضرت صاحب کو اپنے خدام سے کتنا پیار اور اُنس تھا کہ اپنے بچوں کا سا سلوک فرماتے تھے۔ایک دفعہ سفر میں بارشوں کی زیادتی کی وجہ سے سڑکیں ٹوٹ گئیں اور حضرت صاحب کو پالم پور میں مجبوراً لمبا عرصہ قیام کرنا پڑا۔اس سفر میں دفتر کا سٹاف زیادہ نہ تھا۔خاکسار کو کام کی زیادتی کی وجہ سے بخار ہو گیا اور دو دن سخت تیزی کا بخار رہا۔جہاں حضرت صاحب اپنے خدام کا حال دریافت فرماتے وہاں دو دفعہ مغرب کے بعد حضرت صاحب اپنے دست مبارک سے عاجز کے لئے دودھ بھی لائے۔کہاں ایک جلیل القدر امام کا مقام اور کہاں اس کا ایک ادنی خادم۔الفضل ۱۶۔نومبر ۱۹۹۵ء صفحه ۴ ) مکرم شیخ خورشید احمد صاحب نائب مدیر الفضل جماعت سے حضور کے پیار و محبت کا مضمون بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- حضور ہمارے آقا مطاع بھی ہیں لیکن ساتھ ہی روحانی باپ بھی ہیں ایسے باپ جن کو اپنی اولاد کا ہر ہر فر دعزیز ہے۔جو ہماری ہر پریشانی اور ہر مشکل کے وقت ہماری رہنمائی اور مددفرماتے ہیں ہماری کمزوریوں اور کوتاہیوں سے ہر وقت ہمیں آگاہ کرتے ہیں اور ان سے بچنے کی راہیں بتاتے ہیں ہم آنے والے خطرات وحوادث سے غافل ہوتے ہیں لیکن وہ انہیں اپنی بالغ نظری سے بھانپ لیتے ہیں اور پیشتر اس کے کہ ہمیں کوئی نقصان پہنچے ہم اپنے تئیں ایسے حصار عافیت میں پاتے ہیں جو ہمیں تمام خطرات سے محفوظ کر لیتا ہے ہم رات کی تاریکیوں میں غافل سو رہے ہوتے ہیں اور وہ ہمارے لئے ہماری اولاد )