سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 461
۴۰۱ 403 دو طرفہ محبت کے نظارے حضرت فضل عمر کی سیرت میں یہ امر بہت نمایاں ہے کہ آپ کی طبیعت جلال و جمال کا ایک نہایت حسین امتزاج تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو ذمہ داریاں تفویض فرما ئی تھیں ان میں جماعت کے انتظامی امور کی سرانجام دہی بھی شامل تھی اور یہ امر یقینی ہے کہ کسی بھی انتظام کو حیح خطوط پر چلانے کے لئے منتظم کے لئے ضروری ہے کہ وہ پوری طرح چوکس اور باخبر ہو اور اگر کسی حصہ میں کمزوری ، سستی یا کسی اور خرابی کے آثار نظر آئیں تو فوری طور پر ہر طرح کی حکمت عملی کو کام میں لاتے ہوئے جس میں نرمی اور سختی اپنے محل اور موقع پر استعمال ہو اس کی اصلاح کرے۔وہ منتظم اور سربراہ جو اپنی ذمہ داری کو اس طرح پورا نہ کرے وہ اپنے مقاصد میں بُری طرح ناکام ہونے کے علاوہ خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ ٹھہرے گا۔حضور کی زندگی میں مخالفت کی لہریں سمندر کے مدوجزر کی طرح برابر اُٹھتی رہیں مگر ہر مخالفت اور مشکل کے وقت وہ اندرونی فتنہ ہو یا بیرونی مخالفت آپ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک مستعد اور چوکس گلہ بان کی طرح جماعت کی بھر پور کامیاب رہنمائی فرمائی۔آپ کی مخالفت میں جو طریق اختیار کیا گیا اس میں یہ امر بھی شامل تھا کہ موجودہ زمانہ کے فن پرو پیگنڈہ کے مطابق خود ساختہ غلط بات کو مبالغہ آرائی کے ساتھ بکثرت و بتکرار اس شدومد کے ساتھ پیش کیا جاوے کہ عوام کے ذہن میں نفرت و بیزاری کے جذبات پیدا ہو جائیں۔اسی فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کے متعلق یہ مشہور کیا گیا کہ آپ ایک مذہبی آمر“ ہیں۔حالانکہ ظاہری تعداد و وسائل کے لحاظ سے ایک بہت ہی چھوٹی سی مذہبی جماعت جو ہر وقت رضائے الہی کے حصول کی جد وجہد میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بہتر سے بہتر ادا ئیگی کے لئے کوشاں ہو کے سر براہ پر ایسا الزام کسی طرح بھی قرین انصاف و قیاس نہیں ہوسکتا۔اس الزام کو پر کھنے کے لئے قرآنی اصول کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سراسر بے بنیاد بات ہے کیونکہ قرآن مجید تو مذہبی آمر کے لئے ناکامی و نامرادی کی خبر دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ