سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 36
36 ”جو لوگ میرے خطبات اور تقریریں سنتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مجھ پر کبھی کوئی ایسا وقت نہیں آیا جب رسول کریم صلی الہدایہ اور علم کی زندگی کا کوئی واقعہ میں نے بیان کیا ہوا اور رقت سے میرا گلا نہ پکڑا گیا ہو دنیا میں محبتیں ہوتی ہیں کسی وقت کم اور کسی وقت زیادہ مگر رسول کریم صلی الله دی او سلم سے مجھے ایسی شدید محبت ہے کہ مجھے اپنی زندگی میں ایک مثال بھی ایسی یاد نہیں کہ میں نے آپ کا ذکر کیا ہوا ور مجھ پر رقت طاری نہ ہو گئی ہوا اور میرا قلب محبت کی گہرائیوں میں نہ ڈوب گیا ہو۔“ الفضل ۲۱۔جون ۱۹۴۴ - صفحه ۴٬۳ ) مکرم مسعود احمد خورشید صاحب کراچی اس عاشق رسول کی تقاریر جو حضور صلی الشہایہ آلہ سلم کی محبت و فدائیت کے جذبات سے پر ہوتیں ان کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں :- آپ کا خطاب لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اترتا جاتا اور وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی اور اس محبت بھرے شیریں کلام کو سن کر جو کہ خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ یہ آلہ سلم کی محبت سے سرشار ہوتا تھا سامعین اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ و آلہ سلم کی محبت میں فنا کرنے کو تیار ہو جاتے۔آپ کے دل کی گہرائیوں سے ہر دم یہی آواز نکلتی تھی کہ جس طرح آپ کو خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اہلیہ اور مسلم سے محبت ہے اسی طرح سب لوگ بھی اسی دُھن میں مگن ہو جائیں۔آپ کے اکثر و بیشتر خطبات میں قرآنی احکام کی تشریح رسول مقبول صلی اللہادی اور مسلم اور آپ کے صحابہ کے واقعات کا بیان ہوتا تھا۔جس نے جماعت احمدیہ کے افراد کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے برگزیدہ رسول صلی للہا یہ آپر یلم کی اور آپ کے صحابہ کرام کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی ( ریکار ڈ فضل عمر فاؤنڈیشن) سیرت حضرت فضل عمر کا یہ نہایت درخشندہ پہلو ہے کہ مخالفین کی طرف سے آپ پر نہایت گندے الزامات نہایت رکیک اور بازاری زبان میں لگائے جاتے رہے مگر حضور وَإِذَا مَرُّوا بِا اللَّغْوِ رُّوا كِرَاما کے مطابق انہیں حوالہ بخدا کرتے رہے مگر جیسے ہی کسی مخالف نے توہینِ رسالت یا کلمہ طیبہ کے انکار کا الزام لگایا تو آپ نے اس کا مکمل و مسکت جواب دیا۔مولوی محمد علی صاحب نے بھی ایک دفعہ یہ الزام لگاتے ہوئے کہا : خوب یاد رکھو قادیان والوں نے کلمہ طیبہ کو منسوخ کر دیا ہے۔اس میں