سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 422 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 422

379 اجلاسات کے ماحول میں ایک دائرہ سا کھینچ دیا ہو کہ یہ رقابت اس دائرہ کے اندر قدم رکھنے کی قدرت نہ پائے۔یہ مزاج شناس بیویاں اپنے خاوند کے مزاج پر نظر رکھتی تھیں اور ان کے دل اس کے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دھڑ کتے تھے۔سوانح فضل عمر جلد دوم صفحه ۳۶۱-۳۶۲) بچوں اور افراد خاندان سے حسن سلوک حضور کی قابلِ رشک اہلی زندگی کے ساتھ ہی حضور کی بچوں اور اہلِ خاندان سے پیار و شفقت اور تربیت کے انداز کے متعلق متفرق واقعات بھی پیش خدمت ہیں۔ان کو یکجائی طور پر دیکھنے سے وہی تصویر آنکھوں کے سامنے آتی ہے جو خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاهْلِهِ میں ہمارے مطاع و آقا آنحضرت صلی اللہ الکریم نے بیان فرمائی ہے۔حضور بچوں سے بہت پیار فرماتے تھے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اس کے متعلق تحریر فرماتی ہیں :- مبارک سے بہت پیار کا سلوک تھا، دوسرے بھائیوں سے بھی کبھی میں نے سختی کا سلوک یا جھگڑا نہیں دیکھا، منجھلے بھائی صاحب ( حضرت مرزا بشیر احمد صاحب۔ناقل ) سے تو اکثر لمبی باتیں کرتے مگر بہت اچھے موضوع پر۔میرے بھائی اور ماموں مل کر باتیں کرتے تھے۔کبھی فضول بات میں نے نہیں سُنی کیونکہ جہاں یہ سب مل کر بیٹھتے ہیں ضرور جا پہنچتی تھی کئی بار ہنس کر فرماتے تھے : - لڑکی وہ جو لڑکیوں میں کھیلے کہ لڑکوں میں ڈنٹر پیلے میں نے تو بڑے بھائی کو حضرت مسیح موعود کی مانند محبت کرنے والا پایا۔ذرا بڑے ہو کر یہ محبت ایک دوستی کا رنگ بھی اختیار کر گئی۔خاندانی ہر بات مثلاً شادی بیاہ میں ضرور مشورہ لیتے دور ہوتی تو رجسٹر ڈ خط جاتے، آپ ہم بچوں سے بہت پیار کرنے والے بیحد خیال رکھنے والے تھے۔مجھ سے تو خاص طور پر بہت محبت کی بہت ناز اُٹھائے، کبھی خفا ہونا یاد ہی نہیں، ایک بار لڑکیوں