سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 415 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 415

372 صاحب سے ہوئی۔حضور نے مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۴۴ء کو اس نکاح کا اعلان خود فر مایا اور اس میں اس شادی کی ضرورت اور حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :- دودھ اتفاقاً ایک روز۔۔۔میں نے تذکرہ کھولا اس میں لفظ بشری موٹے حروف میں لکھا ہوا نظر آیا۔اسے دیکھ کر میرا ذہن اس طرف گیا کہ میر محمد اسحق صاحب مرحوم کی لڑکی کا نام بشری ہے مگر اس سے تو میری شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ میر صاحب مرحوم نے حضرت اماں جان کا پیا ہے۔پس بشری میری بھیجی ہے۔اس کے بعد میں نے اس بات کا ذکر مریم مرحومہ کے خاندان کے بعض افراد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اپنا خیال ہے کہ مرحومہ کے گھر میں کوئی بڑا آدمی ضرور ہونا چاہئے اور اس وجہ سے ہم میں سے بعض کی رائے یہی ہے کہ آپ اور شادی کر لیں تو اچھا ہے اور کہ اگر ہمارے ہی خاندان میں ہو جائے تو اور بھی اچھا ہے۔اس صورت میں بچوں کی نگرانی زیادہ آسان ہوگی۔تب میرا ذ ہن اس طرف گیا کہ ان کے خاندان میں بھی ایک لڑکی بشری نام کی ہے اور اتفاق کی بات ہے کہ بعض بیماریوں کی وجہ سے اس کی شادی اس وقت تک نہیں ہو سکی اور اس کی عمر بھی بڑی ہو گئی ہے اور اس لئے وہ بچوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کا کام زیادہ اچھی طرح کر سکے گی۔۔۔۔۔۔چنانچہ سید ولی اللہ شاہ صاحب جو پیغام لے کر گئے تھے واپس آئے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ لڑکی کے والد تو راضی ہیں مگر لڑ کی کہتی ہے کہ میں تو شادی کے قابل ہی نہیں۔پہلے ہی لوگ کہتے تھے کہ انہوں نے ایک بیمار عورت حضرت صاحب کے گھر میں بھیج دی ہے اب اگر میں گئی تو خاندان کی بدنامی ہوگی اور لوگ کہیں گے کہ ایک اور بیمار بھیج دی۔۔۔۔۔۔۔سید حبیب اللہ شاہ صاحب نے کہا کہ میں نے کشفاً دیکھا کہ بشری بیگم سفید لباس میں ملبوس میرے سامنے کھڑی ہے اور حضور کو بھی دیکھا کہ قریب ہی ایک طرف کھڑے ہیں اور یہ القا ہوا کہ بشری بیگم صاحبہ حضرت (خلیفہ امسیح الثانی) کے لئے ہیں۔۔۔میں نے اپنے خاندان کے جن افراد سے مشورہ کیا انہوں نے بھی ////