سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 414 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 414

371 جاتیں۔اس واقعہ سے بھی آپ کو جو جماعت کے لوگوں سے محبت تھی اس پر روشنی پڑتی ہے اور یہ بھی کہ آپ اصلاح اور تربیت کے کسی موقع کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔اپنی زیادہ بیماری کے ایام میں بھی کسی کی تکلیف کا معلوم ہو جاتا تو بہت کرب محسوس فرماتے تھے۔اے جانے والی محبوب اور مقدس روح ! تجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہزاروں سلامتیاں ہوں تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسد مبارک پر خدا تعالیٰ سے جو عہد باندھا تھا اس کو خوب نبھایا۔تو نے خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کی خاطر نہ اپنی جان کی پرواہ کئی نہ مال کی نہ عزت کی نہ اولاد کی خدا کی خاطر تیرا خون بھی بہایا گیا۔تُو مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِن کا زندہ نمونہ تھا تو نے زندہ خدا ہمیں دکھایا۔تو اللہ تعالیٰ کی قدرت ، رحمت اور تو تو قربت کا نشان تھا، تیرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت جلوہ نما ہوئی اور دنیا نے رحمت اور قربت سے حصہ پایا تو نے قبروں میں دبے ہوؤں کو نکال کر اُن کو روحانی موت کے پنجہ سے نجات دی۔تیرے آنے کے ساتھ حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آیا اور باطل اپنی نحوستوں کے ساتھ بھاگ گیا۔تو نے اسلام کی عزت قائم کی تیری ایڑیوں نے شیطان کا سر کچلا تو کامیاب و کامران اپنے خدا کے سایہ میں زندگی گزار کر اپنے محبوب حقیقی کی خدمت میں حاضر ہو گیا لیکن ہمیں سوگوار بنا کر تیرے ہی الفاظ میں ہم تجھ سے کہتے ہیں :- جانتا اس ہوں صبر کرنا ہے ثواب ول نادان کو سمجھائے کون الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ ء صفحہ ۱ تا ۷ ) رحضرت حضرت سیدہ مہر آیا صاحبہ محضرت سیدہ اُمم طاہر صاحبہ کی وفات کے بعد مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات کی روشنی میں حضرت مصلح موعود کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کی نگہداشت کی خاطر دوسری شادی کرنا بہتر ہو گا چنانچہ اس الہی منشاء کے مطابق حضرت مصلح موعود کی آخری شادی حضرت سیده مهر آپا بنت مکرم سید عزیز احمد شاہ صاحب سے ہوئی۔حضور نے مؤرخہ ۲۴۔جولائی ۱۹۴۰ء کو اس نکاح کا اعلان خود فرمایا اور اس میں اس شادی کی ضرورت اور کا حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا : - حضرت مصلح موعود کی آخری شادی حضرت سیدہ مهر آپا صاحبہ بنت مکرم سید عزیز احمد شاہ