سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 368 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 368

324 جذبہ عشق نہیں دست جنوں کا محتاج خود بخود چاک گریبان ہوئے جاتے ہیں اس پر فرمایا تھا کہ اب تو چھپ چکا۔میں نے کہا میں تو اس طرح ہی پڑھونگی ہے تو آپ کا ہی شعر۔آپ نے اس تبدیلی کو پسند کیا تھا۔اسی طرح ایک دو دفعہ اور بھی ہوا۔وہ عاشق رب کریم تھے تو حید کو مضبوطی سے پکڑنے والے۔اُن کی زندگی اُن کی موت سب کچھ اپنے مولا کے لئے تھا غصہ آتا غلط کاموں پر اکثر بہت جھنجھلا جاتے مگر فوراً نرم پڑ جاتے۔اُن کا غصہ تادیبی رنگ رکھتا تھا اس میں گہرائی بالکل نہیں تھی۔دل کا حلیم اللہ تعالیٰ نے اسی لئے فرما دیا تھا کہ آخر وہ 66 کام لے گا تو غصہ بھی آئے گا۔مگر یاد رکھنا کہ وہ دل کا حلیم“ ہوگا۔خیر مجھ پر تو ساری عمر ایک بار بھی خفا نہیں ہوئے میں نے تو اُن کو محبت کا چشمہ ہی پایا ہمیشہ۔خدا تعالیٰ اُن کے درجات بلند سے بلند تا ابد فرماتا جائے اور ہمارے نبی کریم صلی الہادی اورمسلم کے قدموں میں حضرت مسیح موعود کے پاس ان کو مقام عطا کرے اور اپنا قرب، اپنا وصل عطا فرمائے۔زائد ضمیمہ:- آمین مبارکہ الفضل ۱۵ جنوری ۱۹۶۹ ء صفحه ۵ تا ۹) اپنا بچپن کا ایک خواب یاد آ گیا یا د رہا اور کچھ سال ہوئے میں نے لکھ بھی لیا تھا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے صحن کا کنواں لبالب پانی سے بھرا ہے اور ایک جوان کو عمر جس کی پشت سے بڑے بھائی صاحب ہی معلوم ہوتے تھے تیز تیز اس کنویں کے گر دگھوم رہا ہے اور اُس کی زبان پر اونچی آواز سے یہ الفاظ جاری ہیں وہ آواز گونجتی ہے اور درود یوار سے یہ آواز آرہی ہے۔إِنِّي جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ “