سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 367
323 کر یہی دل بہلا وا تھا۔عطر وغیرہ کی باتیں کوئی لطیفہ اپنے سفروں کے لطائف مجھے ضرور سناتے۔یہ مجھ سے ایک چھیڑ تھی مذاق میں کہ آدھا لطیفہ یا ایک مصرع شعر کا سنا کر فرماتے آگے میں بھول گیا۔مجھے آدھی بات سے گھبراہٹ ہوتی ہے مذاق یہ میرے ساتھ ہمیشہ رہا پھر ذرا چڑا کر سنا دیتے تھے۔وسعت قلب ایک دو بار بے تکلفی میں (گستاخی مطلب نہ تھا ) میں نے آپ کے اشعار میں سے ایک دو مصرعوں کا رڈ و بدل کر دیا کہ یوں ہوتا تو اچھا ہوتا۔ذرا بُرا نہیں مانا فرمانے لگے اب تو چھپ گیا ہے۔بہت شوق سے مجھے نئے اشعار سناتے۔ایک دفعہ مجھے پوچھا تم کو کلام محمود میں سے کونسا شعر زیادہ پسند ہے ایڈیشن اول تھا ) میں نے کہا : - حقیقی عشق گر ہوتا تو سچی جستجو ہوتی تلاش یار ہر ہر وہ میں ہوتی کو بکو ہوتی اس پر خوشی کا اظہار فرمایا۔ایک لطیفہ یاد آ گیا ایک دن میں نے بتا دیا کہ منصورہ کہتی ہے یہ ماموں جان نے چھوٹے ماموں جان ( حضرت میر محمد الحق ) کی شادی پر کیسا شعر کہدیا ”میاں اسحق کی شادی ہوئی ہے آج اے لوگو معلوم ہوتا ہے دُہائی مل رہی ہے لو گو آ ؤ دوڑو۔آپ بے اختیار ہنس دیئے فرمایا خبر لونگا بڑی شریر ہے۔ایک دفعہ میں نے کہا کہ آپ کے دوا شعار الفضل میں پڑھے یہ شعر جو ہے۔ہم انہیں دیکھ کے حیران ہوئے جاتے ہیں خود بخود چاک گریبان ہوئے جاتے ہیں اگر اس کو مطلع کے بجائے دوسرا تیسرا نمبر بنادیں اور اس کو یوں کر دیں تو اچھا معلوم ہوگا۔