سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 356 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 356

312 حضرت مسیح موعود ا کثر فرماتے تھے کہ دونوں بہت ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں دراصل نام ایک ہے صرف ایک " کا ہی فرق ہے نا۔لہذا یہ بات تو ضمن میں آگئی مگر میں نے تو بڑے بھائی کو حضرت مسیح موعود کی مانند محبت کرنے والا پایا۔ذرا بڑے ہو کر یہ محبت ایک دوستی کا رنگ بھی اختیار کر گئی۔خاندانی ہر بات مثلاً شادی بیاہ میں ضرور مشورہ لیتے۔دُور ہوتی تو رجسٹر ڈ خط جاتے۔( میری شادی کے بعد اکثر قریباً روزانہ دارالسلام کا پھیرا ہوتا تھا۔ہمارے زیادہ باہر رہنے کے ایام میں کوٹلہ بھی آتے اور شملہ بھی۔سفر کو کہیں جا رہے ہوتے تو ضرور سخت تاکید سے مجھے بُلاتے کہ تم میرے ساتھ چلو ) ایک دفعہ تو اتنی سخت تاکید میں آئیں پے درپے کہ مجھے شملہ کو چھوڑ کر شملہ سے قادیان آنا پڑا۔اور آپ کے ساتھ منالی وغیرہ کا سفر کیا۔مجھے یاد نہیں کہ کبھی کہیں جانے کی صلاح ہو رہی ہو اور مجھے یہ اصرار نہ کیا ہو کہ چلو۔مجبوری کے سبب میں نہ جاسکتی یہ اور بات تھی۔پھر بھی کئی سفر آپ کے ساتھ کئے۔آپ مجھ سے آٹھ ہی سال بڑے تھے اور مجھے اب تو بُھولتا ہے مگر اس وقت کی دو اڑھائی سال کی باتیں بھی یاد ہیں کئی صاف نظارے۔میں نے انکو 10 سال کی عمر میں یا 11 سال کی عمر گویا مثلاً آنکھ کھول کر دیکھا ہو گا۔مگر میں نے حضرت بڑے بھائی صاحب کو باوجود کھیل وغیرہ جیسا کہ میں نے لکھا ہے کہ کبھی بے وقری کی بچگانہ حرکتیں کرتے نہیں دیکھا۔لڑکیاں شادی کے ذکر کو چھیڑتی تھیں کہ میاں کا بیاہ ہو گا جب تحریک ہوئی چھوٹی عمر تھی شرماتے تھے تو زیادہ چھیڑ نے پر ایک دفعہ بانس مسہری کا لے کر پیچھے دوڑتے دیکھا اس غصہ میں کہ کیوں مجھے چھیڑتی ہیں۔اُس وقت گھر میں بڑی لڑکیاں ان کی دودھ شریک بہنیں یا ایک دو سیانی شریف لڑکیاں تھیں جن میں ایک جواب ضعیف بزرگ خاتون ہیں اصغری بیگم صاحبہ زندہ ہیں اصلیہ مدد خاں صاحب مرحوم۔عزیزان یعقوب ، الیاس داؤد وغیرہ کی والدہ ہیں۔یہ لوگ وہ تھے جو ساتھ کھیلتے ہم عمر تھے اور تمام زندگی آپ کی دیکھی مگر کبھی آگے پیچھے اشارةً کنایتاً نہ اُس وقت نہ اب تک،