سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 357
313 کسی نے کوئی نازیبا بات آپ کے متعلق کہی۔مفتری اور ابلیس ان کو بھی بہکا سکتے تھے مگر یہ نو جوانی کی زندگی کے گواہ بفضل خدا ان کی نیکی کے ہی گن گاتے رہے۔شادی کم عمری میں ہوئی۔آپ کے مشاغل پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔اُسی طرح پڑھنا الگ بیٹھ کر ، مسجد میں نماز کو جانا باقاعدہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آپ سے میری زندگی میں سلوک ایسا ہی میں نے دیکھا جیسا ایک جوان قابل اور قابل اعتماد بیٹے کے ساتھ ہونا چاہئے۔دُنیوی کام آپ نے ان سے کبھی نہیں لیا۔حضرت خلیفہ اول کے پاس کسی کام یا دوا وغیرہ کے متعلق بات کرنے کو کہہ دیا وغیرہ۔میں لکھ چکی ہوں جب صدر انجمن بن رہی تھی اُن دنوں آپ سے پوچھتے تھے کہ کیا بات ہو رہی ہے۔کمیٹی کے متعلق اور ممبر خواہ اس وقت نہ ہوں مگر آپ باہر آتے جاتے اور حضرت مسیح موعود سے بات کرتے تھے۔ویسے آپ بے تکلف ہو کر ہم لوگوں کی طرح آپ سے بات نہیں کرتے تھے۔یعنی جب سے مجھے یاد ہے۔جب رات کو حضرت مسیح موعود باتیں کرتے کوئی واقعہ، کوئی پرانا ذکر، کوئی بزرگوں کی روایت سناتے تو ہم سب کے ساتھ اکثر آپ بھی ہوتے تھے کھانا بھی اکثر ساتھ کھاتے تھے مگر اب یہ عمر تھی کہ بہت ادب اور وقار کے ساتھ آپ کی گفتگو یا سامنے آ کر کام وغیرہ کا بتانا ہوتا تھا۔غرض دنیوی کام کوئی سپر د نہیں ہوا۔ایک باغ حضرت اماں جان کے نام تھا وہ بھی اور کچھ زمین وغیرہ جوتھی نا نا جان دیکھ بھال کر لیتے تھے۔حضرت مسیح موعود نے تو کبھی پوچھا تک نہیں ایک دفعہ حضرت نانا جان نے (جور پورٹ ضرور دیتے تھے ) ذکر میں فرمایا کہ مالی کی تنخواہ تین روپیہ ہے آپ نے فرمایا اچھا پہلے تو ۸ آنے ہوتے تھے؟ اصل میں پہلے تو متعلقین و خدام کی تنخواہ تو یا نہ ہوتی یا برائے نام مگر کھانا پینا اور دیگر اُن کے اخراجات شادی بیاہ وغیرہ ان کی ضروریات کے موقعوں پر ساری کسر نکل جاتی تھی ان کے سب کام چل جاتے تھے۔خلافتِ اولیٰ کے انتخاب کے وقت آپ باہر سے آئے اور حضرت اماں جان سے کہا کہ حضرت مولوی صاحب کے متعلق سب کا خیال ہے آپ سے بھی مشورہ کو کہا