سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 287
265 انسانوں سے مختلف انسان ہیں جن کو اپنی ذات کا پتہ نہیں صرف کسی بالا ہستی کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔نہ اپنا وقت نہ اپنا آرام اتنی مصروفیت کہ حد تھی۔آپ کا اٹھنا، بیٹھنا، سونا جاگنا صرف اور صرف خدمت دین محمد کے لئے وقف تھا۔کھانے کا انتظار ہو رہا ہے ایک بجادو بجے تین بجے امی جان بھجوا رہی ہیں جاؤ اپنے ابا سے کہو کھانا تیار ہے جاتی تو ٹہلتے ہوئے قرآن مجید پڑھنے میں آپ کا انہماک اتنا زیادہ کہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ کوئی آیا ہے کہ نہیں۔ہم نے کھڑے کھڑے واپس آ جانا اور امی جان سے کہہ دینا کہ ابا جان تو قرآنِ مجید پڑھ رہے ہیں پھر جانا پھر جانا آخر کچھ جرآت کر ہی لینی تو جواب ملنا چلو آ تا ہوں اس طرح کھانے کا وقت کہیں سے کہیں جا پہنچتا۔رات کو گیارہ بارہ بجے کبھی اس کے بعد بھی کام سے فارغ ہو کر دفتر سے تشریف لاتے ، رات کو کوئی کسی وقت کبھی پر چہ لے کر آ رہا ہے کبھی کسی بیمار کو دوائی دینے کے لئے اٹھتے مگر کبھی بیزاری یا تھکان کا اظہار نہ کیا آپ کا ہر قول وفعل یہ کہہ رہا ہوتا کہ میں تو اسی لئے ہوں میں نے تو یہی کرنا ہے۔میں ہمیشہ سوچتی ابا جان رات سوتے کس وقت ہیں، ہم سوتے ہیں تو جاگ رہے ہوتے ، جاگتے ہیں تو بھی جاگ رہے ہوتے ہیں۔فجر کی نماز کے بعد تھوڑی دیر سونے کی ضرور عادت تھی۔تکیوں کے نیچے رقعے ہی ہوتے جو رات کو ملتے اور پڑھ کر رکھ دیئے جاتے زیادہ تر دعایا دوائی والے رقعے ہوتے۔(إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحاً طَوِیلا کی کتنی پیاری تعمیل ہے !!!!) محترمہ صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ حضور کی بعض مصروفیات کے ذکر میں تحریر فرماتی ہیں: حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ سارا دن کام میں مشغول رہنے کے علاوہ رات کو دو دو بجے تک کام کرتے رہتے ہیں۔آپ کی ڈاک ہر روز کم و بیش اڑھائی تین سو خطوط پر مشتمل ہوتی ہے اور آپ ہر خط کو اس سُرعت سے پڑھتے ہیں کہ انسان محو حیرت ہو جاتا ہے۔بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ سرسری نظر سے خطوط ملاحظہ فرما رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضور کو ہر خط کے مضمون کا پورے طور پر علم ہوتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر۔