سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 260
237 بوجھ نہ ڈالنا چاہئے کہ اس خیال سے انسان بعض اوقات خود چندہ سے محروم رہ جاتا ہے۔یہ کام بہت جلد شروع ہونے والا ہے۔اور چاہ کی لاگت تخمینا ۲۵۰ روپے ہوگی۔اگر خدا تعالیٰ چاہے گا تو اس قدر دوستوں کے تمام چندوں سے وصول ہو سکے گا۔آپ ہمیشہ سے بکمال محبت و صدق دل اعانت اور امداد میں مشغول ہیں۔صرف به نیت شمول در چنده دهندگان آپ کا نام لکھا گیا۔گو آپ ۲ ( دوآنہ ) بطور چندہ بھیج دیں۔“ غلام احمد قادیان کی احمدی جماعت کے اس وقت کئی لاکھ ممبر ہیں اور ان ممبروں میں چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں جیسے حج فیڈرل کورٹ اصحاب بھی شامل ہیں۔جو اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ رفاہ عام کاموں کے لئے اس جماعت کی معرفت صرف کرتے ہیں اور یہ جماعت مختلف شعبوں کے ذریعہ ہر سال لاکھوں روپیہ ہندوستان و غیر ممالک میں مذہب و اخلاق کی تبلیغ کے لئے صرف کرتی ہے مگر آج سے پچاس برس پہلے اس جماعت کے بانی کے پاس کنواں لگوانے کے لئے اڑھائی سو روپیہ بھی نہ تھا اور آپ نے دود و آنہ جمع کر کے رفاہ عام کے لئے کنواں لگوایا۔اگر احمدی جماعت کی اس کامیابی پر غور کیا جائے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ جماعت جو روپیہ صرف کرتی ہے وہ ایک ایک پائی پبلک کے لئے صرف کیا جاتا ہے۔اس روپیہ کے جمع یا صرف کرنے میں ذاتی اغراض کو دخل نہیں اور پلک جب دیکھتی ہے کہ کارکن دیانتدار اور مخلص ہیں تو وہ اپنی جائیداد فروخت کر کے بھی روپیہ فراہم کرتی ہے۔جو لوگ پبلک مفاد کے لئے کوئی کام کرتے ہوئے روپیہ نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں ان کے لئے مرحوم مرزا غلام احمد کا یہ واقعہ آنکھیں کھولنے کا باعث ہونا چاہئے۔کیونکہ پبلک ان لوگوں کے لئے روپیہ نہیں آنکھیں بچھانے کے لئے بھی تیار ہے جو دیانتدار اور مخلص ہوں مگر ان لوگوں کے لئے پبلک کے پاس پیسہ نہیں جو پبلک فنڈوں کو ہڑپ کرنے کے لئے پبلک کے سامنے گداگری کریں اور مالی مشکلات کا رونا روتے رہیں۔“ 66 اخبار ریاست کا اداریہ بحوالہ الفضل مؤرخه ۱۹ / اگست ۱۹۴۶ ء صفهیم) اس اداریہ کے آخر میں صحافی مذکور نے بالکل صحیح تجزیہ کیا ہے کہ کارکن دیانتدار اور مخلص