سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 261 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 261

238 ہوں تو لوگ اپنی جائیدادیں بیچ کر بھی پیش کر دیتے ہیں۔جماعت کا چندہ کا موجودہ نظام حضرت فضل عمر کی نگرانی میں آپ کی ہدایات و رہنمائی کے مطابق قائم ہوا۔یہ ایک عمدہ مضبوط اور محفوظ اور فول پروف Fool Proof نظام ہے۔جماعت پورے اعتماد سے دل کھول کر چندہ پیش کرتی ہے اور اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ انہیں پتہ ہے کہ ان کا خون پسینہ سے کمایا ہوا پیسہ، ان کا بچوں کے پیٹ کاٹ کاٹ کر چندہ دینا رائیگاں نہیں جائے گا ، یہ چندہ صحیح ہاتھوں میں پہنچے گا اور صحیح مقاصد پر خرچ ہوگا اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ قربانی کرنے والوں کے اموال ونفوس میں برکت عطا فرمائے گا۔حضور ہر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور اس لحاظ سے جماعت کے لئے ایک اچھی مثال پیش فرماتے تھے اس کی ایک مثال درج ذیل ہے۔۱۹۵۲ء کی مجلس شوری میں تحریک جدید کی طرف سے چار لاکھ روپیہ کے سرمایہ سے اشاعت لٹریچر کے لئے ایک لمیٹڈ کمپنی شروع کرنے کی تجویز پیش ہوئی۔شوری کے نمائندگان نے اس کے متعلق اپنی آراء کا اظہار کیا۔کمپنی کے قیام اور اس کی افادیت پر تو سب متفق تھے مگر سرمایہ کی فراہمی کا سوال بہت مشکل تھا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کی افادیت کے متعلق شوری کے نمائندگان کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے چار لاکھ کی بجائے آٹھ لاکھ کے سرمایہ سے دو کمپنیاں بنانے کی منظوری مرحمت فرمائی۔اُس زمانے میں جماعت کی مالی حالت دیکھتے ہوئے یہ رقم بہت بڑی رقم تھی مگر حضور نے مالی قربانی کا ایک عظیم نمونہ پیش کرتے ہوئے اس مشکل کو آسان کر دیا آپ فرماتے ہیں۔وو " بہر حال اگر غیر ملکی زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت کے لئے ایک لمیٹڈ کمپنی کی ضرورت ہے تو ایسی ہی ضرورت ملکی زبان میں لٹریچر شائع کرنے کے لئے صدر انجمن احمد یہ کو بھی ہے اس لئے میرے نزدیک دولمیٹڈ کمپنیاں ہونی چاہئیں۔بڑا سوال سرمایہ کا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سرمایہ کا سوال بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی آسانی سے حل ہوسکتا ہے۔خلافت جو بلی فنڈ کا جو دولاکھ ستر ہزار کے قریب ہے میں اس کمپنی کو دیتا ہوں جو صدر انجمن احمدیہ کی ہوگی۔اس کے علاوہ گذشتہ سالوں میں صدر انجمن احمد یہ چھ ہزار روپیہ سالانہ مجھے گزارہ کے لئے قرض کے طور پر دیتی رہی ہے بعض سالوں میں اس سے کم رقم بھی ملی ہے بہر حال آپ لوگ مجھے امداد کے طور پر وہ رقم دینا چاہتے تھے اور میں نے قرض کے طور پر لی اب میں چاہتا ہوں کہ اس رقم کو بھی جب میں ادا کر سکنے کے