سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 255 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 255

232 بھی مہمانوں کو پیش کر دیا نیز فرمایا : مہمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے اور ہمارا کیا ہے رات گزر جائے گی“ ایثار و قربانی کا یہ پیج اخلاص و تقویٰ کے پانی سے بار آور ہونے لگا اور سلسلہ کی ضروریات پوری ہوتی چلی گئیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے زمانہ میں اشاعت و دعوت الی اللہ کے ساتھ ساتھ جماعتی ضروریات کی بعض شاندار عمارات تعمیر ہوئیں، مسجد نور، غرباء کے لئے مکانات (دار الضعفاء) مریضوں کے لئے ایک بڑا ہسپتال تیار ہوا۔حضرت فضل عمر نے بہت ابتدائی زمانہ میں کسی جماعتی کام کے لئے چندہ کی تحریک کی تو گل ۲ روپے جمع ہوئے۔حضور کے ایک بے تکلف دوست نے جب ہنستے ہوئے کہا کہ صرف اڑھائی روپے ہی جمع ہوئے ہیں تو حضور نے شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بھی کم نہیں ہیں۔حضور اکثر یہ امر بیان فرمایا کرتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو منصب خلافت پر سرفراز فرمایا تو جماعتی خزانے میں صرف چند آنے تھے اور بظاہر جن لوگوں کے تعاون پر بھروسہ ہوسکتا تھا وہ جماعت سے الگ ہو کر مخالفت پر کمر بستہ تھے۔حضور کے توکل اور قربانی کا سفر اس جگہ سے شروع ہوتا ہے۔دنیا دار کی نظر میں یہ بے سروسامانی اور تہی دستی کی کیفیت تھی مگر حقیقت شناس اور بصیرت والی آنکھ دیکھ رہی تھی کہ یہ تو وہ موعود وجود ہے کہ :- اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت و دولت ہوگا“ اس اولوالعزم انسان کو حاصل ہونے والی فتوحات کے ذکر سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مالی قربانی کے متعلق آپ کے نمونہ اور مثال پر نظر ڈالی جائے کیونکہ آپ کی سیرت کے ہر ورق میں قربانی چھلک چھلک کر اپنی طرف توجہ کھینچتی ہے۔جماعت کے سامنے آپ نے جو تحریکات پیش فرمائیں ان کی ایک جھلک ذیل میں پیش کی جاتی ہے ہے۔ا۔انجمن ترقی اسلام کے لئے چندہ (تین ہزار کے قریب وعدے ہوئے۔صرف قادیان سے۵۰۰ روپے اگلے دن ہی وصول ہو گئے ) -۲ ریلیف فنڈ کی اپیل ( قادیان سے بارہ سو روپے جمع ہوئے باہر بھی تمام جماعتوں نے اس تحریک میں حصہ لیا )