سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 213
209 دیکھو کہ کس طرح خود بخودان کی اصلاح ہونی شروع ہو جاتی ہے“ (الفضل ۲۔جون ۱۹۳۲ء) بہتر اخلاق کے حصول کے لئے سب سے ضروری اور پہلی خوبی راست بازی اور سچائی ہے آپ فرماتے ہیں :- اخلاق کی مضبوطی کیلئے جن امور کی ضرورت ہے ان میں اول راست بازی ہے۔قومی عمارت میں جس مسالے کی ضرورت ہے وہ انفرادی اصلاح ہے اور پہلی اینٹ راستبازی ہے اس سے اعتماد پیدا ہوتا ہے اور جس قدر اعتماد مضبوط ہوگا اسی قدر قوم میں اعلیٰ اخلاق اور معاملات کی عمدگی پیدا ہو گی۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کے اقتصادی فلاح کے خیال سے ان میں تحریک کی کہ وہ تجارت کی طرف توجہ کریں اور دکانیں کھولیں یہ تحریک کام کر رہی ہے اور مختلف جگہ مسلمانوں کی دکانیں کھل رہی ہیں۔اعتماد پیدا کرنے کیلئے راستبازی اول شرط ہے اس لئے خود راستباز بنو اور اپنی اولادوں کو راستباز بناؤ اس بات کی نگرانی کرو کہ وہ جھوٹ نہ بولیں لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ روزانہ ہم گھروں میں جھوٹ بولتے ہیں تو اولا دوں میں راستبازی کیونکر پیدا ہوگی۔یہ غلط ہے کہ بیچ سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔سچ اگر مصیبت کے وقت نہ بولو گے تو اور کون سا وقت اس کے بولنے کا ہے پس کسی مصیبت سے ڈر کر سچ کو ترک نہ کرو۔“ لیکچر شملہ صفحہ ۱۷۔انوار العلوم جلده اصفحه ۱۴) ایک مخلص احمدی قاضی محمد علی صاحب کو بٹالہ سے قادیان میں آتے ہوئے بعض شر پسندوں نے اشتعال دلایا اور ان سے جھگڑا شروع کر دیا۔آپس میں لڑائی شروع ہو گئی مکرم قاضی صاحب بیہوش ہو گئے جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے دیکھا کہ ایک مخالف بھی وہاں مرا پڑا ہے۔آپ پر قتل کا الزام لگا کر مقدمہ چلایا گیا اور موت کی سزا دی گئی۔سپریم کورٹ اور پریوی کونسل تک اپیل کی گئی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔مکرم قاضی صاحب جیل میں اپیل کے فیصلہ کا انتظار کر رہے تھے تو انہیں حضور کا گرامی نامہ ملا جس میں آپ کو صبر اور رضا بالقضاء کا مومنانہ نمونہ دکھانے کی تلقین کی گئی۔حضور کی نصیحت کا پُر حکمت طریق اس مکتوب گرامی سے ظاہر ہوتا ہے