سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 194 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 194

190 ان تمام لوگوں کی دعوت کا انتظام نہ تو خاص اہتمام سے کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مالی لحاظ سے۔سوائے خاص مالداروں کے۔لوگوں کو اتنی وسعت ہوتی ہے کہ اس قدر بار برداشت کر سکیں۔اسی وجہ سے یہاں دعوت کے دائرہ کو محدود کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ میں نے اپنے لڑ کے ناصر احمد کے ولیمہ کے موقع پر منتظمین کو ہدایت دی تھی کہ وہ محلہ وار دعوت کے لئے نمائندوں کا انتخاب کر لیں۔کچھ قریب والے دیہات کے احمدی بلالئے کچھ یتامیٰ و مساکین اور دار الشیوخ کے لڑکے تھے۔اس طرح حضرت مسیح موعود کے صحابہ اور صدرانجمن کے کارکنوں کو شامل کر کے ایک ہزار کے قریب افراد کا اندازہ کیا گیا اور کھانا جو تیار کیا گیا وہ چودہ سو کا تھا کیونکہ کچھ کھلانے والے بھی ہوتے ہیں انہوں نے بھی کھانا کھانا ہوتا ہے، کچھ گھروں میں کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن جب کھانے کا وقت آیا تو کھانا دینے میں بہت دیر ہو گئی تو میں شور سن کر باہر آیا۔اس وقت مجھے بتایا گیا کہ سولہ سو کے قریب آدمی جمع ہو چکے ہیں اور ابھی سڑکیں آنے والے لوگوں سے بھری پڑی ہیں اور لوگ بڑی کثرت سے آ رہے ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کھانا ان سب کو کس طرح کھلایا جا سکتا ہے۔میں نے دفتر والوں پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ یہ تمہارا قصور ہے تمہیں ٹکٹ جاری کرنے چاہئیں تھے اب مجھ سے مشورہ لینے کا کیا فائدہ۔دس پندرہ منٹ کے بعد جب دوبارہ اندازہ لگایا گیا تو معلوم ہوا دو ہزار آدمی اکٹھا ہو چکا ہے۔آخر یہ تجویز کی گئی کہ صدر انجمن کے تمام کارکن ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض صحابہ اور بہت سے طالب علم اٹھا لئے جائیں۔ان لوگوں کو اٹھا کر کہا گیا کہ آپ پھر کھانا کھا لیں پہلے اور لوگوں کو کھانا کھلا لیا جائے۔انداز اچھے سو کے قریب لوگ تھے جنہیں اٹھایا گیا لیکن پھر بھی اندازہ یہ تھا کہ جن لوگوں نے کھانا کھایا وہ سترہ اٹھارہ سو تھے۔جو چھ سو اٹھائے گئے انہیں رات کے بارہ بجے کے بعد کچھ چاول تیار کر کے تھوڑے تھوڑے کھلا دیئے گئے اور علاوہ از میں دوسرے دن ان کی دعوت بھی کر دی گئی۔مجھے زیادہ افسوس طالب علموں کا رہا کہ دوسرے دن انہوں نے رخصت پر چلے جانا تھا رات کو وہ یوں بھوکے رہے اور صبح سویرے بغیر دعوت میں شامل ہوئے چھٹیوں پر اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔