سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 136 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 136

136 پڑے تو مجھے ایک ذرہ بھر بھی ملال نہ ہو (الفضل ۲۹۔جنوری ۱۹۲۶ ء صفحه ۲) مناظرات، مخالفت اور مقابلہ کے ماحول میں بھی آپ نے کبھی خلاف اخلاق کوئی حرکت نہ کی بلکہ اپنی جماعت میں سے کسی اور کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نه دی مندرجہ ذیل مثال اسی نا در خلق کی ہے۔مکرم مرزا رفیق احمد صاحب لکھتے ہیں :- جماعت کے بلند پایہ عالم ، حرارتِ ایمانی سے بھر پور ، دین کے بے لوث خادم، عبدالرحمن خادم مرحوم ابتدائی عمر ہی سے بڑے جو شیلے جوان تھے ، مولانا ظفر علی خان کسی جلسہ میں تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو خادم صاحب اپنے فطری جوش وجذ بہ سے مولانا ظفر علی سے سوالات کرنے لگے ، آپ نے ان سے کہا کہ جماعت کے فلاں لٹریچر اور فلاں تعلیم کے خلاف بات کی ہے، حالانکہ آپ بزرگ ہیں غلط بیانی کرتے ہیں ہمیں اس کا جواب دیں۔مولا نا خادم صاحب کی بار بار مداخلت سے تنگ آ کر سٹیج سے اُترے اور کہا کہ میں ایسی بیہودہ مجلس میں تقریر نہیں کرونگا یہ کہہ کر اپنے گھر کی طرف پیدل روانہ ہو گئے لیکن خادم صاحب ان کا پیچھا چھوڑنے والے کہاں تھے۔ساتھ ہی احمد یہ ہوسٹل کے چند اور احمدی جوان بھی ہو لئے اور بار بار یہی کہتے گئے کہ مولا نا ہماری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے ، حتی کہ گھر آ گیا اور مولانا ظفر علی خان نے نہایت غصہ سے کواڑ بند کر کے گنڈی لگالی۔خادم صاحب مرحوم نے حضرت صاحب کو قادیان خط لکھا جس میں یہ ساری روئیداد درج تھی اور آخر میں لکھا کہ اردو محاورہ کے مطابق ”جھوٹے کو گھر تک پہنچا کر آئے ، خادم صاحب اب داد تحسین کے منتظر تھے اور بڑی بے تابی سے خط کا انتظار کر رہے تھے ، آخر حضور کا خط آیا، لکھا تھا: - "آپ کا خط پہنچا، خوشی کی بجائے افسوس ہوا، آخر مولانا ظفر علی خان صاحب بھی اپنے حلقہ میں ایک معزز اور قابلِ احترام شخصیت ہیں اور اسلام کسی کے ساتھ تمسخر کی اجازت نہیں دیتا ، میں آپ سے ناراض ہوں اور اس وقت تک معاف نہ کروں گا جب تک مولانا آپ کو معاف نہ کر دیں۔“ خادم صاحب نے بیان کیا کہ ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ، یا الہی یہ