سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 132
132 بھی تلف نہ ہوں۔ایسے معاملات میں ہمیں قطعا یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ ان لوگوں کی طرف سے ہماری مخالفت کی جاتی ہے بلکہ ہمیں ان کے حقوق کی کامل حفاظت کرنی چاہئے۔پس میں امید کرتا ہوں کہ مخالفت اور گالیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اور ان ناجائز ذرائع کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جو دشمن ہمارے مقابلہ میں اختیار کرتا ہے صبر اور اسلامی علو حوصلہ سے کام لیتے ہوئے ہماری جماعت کے احمدی ممبر نہ صرف احمدی حقوق کی حفاظت کریں گے بلکہ وہ غیر احمدیوں ،سکھوں ہندوؤں اور ان کے حقوق کی بھی حفاظت کریں گے۔۔میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ زیادہ حوصلہ دکھائیں اور بہر حال ان کی رعائت رکھیں الفضل ۲۴۔دسمبر ۱۹۳۸ء صفحه ۲ تا ۴ ) اللہ تعالیٰ اس بات کا گواہ ہے کہ اپنی ذات میں مجھے کسی شخص سے عداوت نہیں نہ اپنے دشمن سے، نہ سلسلہ کے کسی دشمن سے۔افعال بے شک مجھے برے لگتے ہیں اور انہیں مٹا دینے کو میرا جی چاہتا ہے مگر کسی انسان سے مجھے دشمنی نہیں ہوئی حتی کہ سلسلہ کے شدید ترین دشمنوں کی ذات سے بھی مجھے آج تک کبھی عداوت نہیں ہوئی۔یہ دل بے شک چاہتا ہے کہ ہمارے سلسلہ کے دشمن اپنے منصوبوں میں ناکام رہیں اور اللہ تعالیٰ یا تو انہیں ہدایت دے یا ان کی طاقتوں کو توڑ دے مگر یہ کہ ان کو اپنی ذات میں نقصان پہنچے یہ خواہش نہ کبھی پہلے میرے دل میں پیدا ہوئی اور نہ اب ہے۔تو آدمیوں کی عداوت کوئی چیز نہیں جس چیز کو مٹانا ہمارا فرض ہے وہ خلاف اسلام عقائد اور طریقے ہیں جو دنیا میں جاری ہیں اگر ہم ان عقائد اور طریقوں کو مٹانے کی بجائے آدمیوں کو مٹانے لگ جائیں اور وہ اصول اور طریق خود اختیار کر لیں تو اس کی ایسی ہی مثال ہو گی جیسے کوئی بادام کے چھلکے رکھتا جائے اور مغز پھینکتا جائے“ الفضل ۲۶ فروری ۱۹۳۸ ء صفحه ۱۰) جماعت کے وقار و عزت کے لئے برطانوی حکومت کو للکارتے ہوئے فرماتے ہیں:۔