سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 125
125 سے پکڑی گئی ہے الفضل کا ایڈیٹر میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ فلاں ہندو کی لڑکی کے خطوط پکڑے گئے ہیں۔۔شخص سلسلہ کا سخت مخالف ہے اب خدا نے ہمیں ایک موقع عطا کیا ہے اس کی لڑکی کے خطوط پکڑے گئے ہیں بہتر ہے کہ ہم بھی اس واقعہ کا اپنے اخبار میں ذکر کر دیں۔میں نے اسے کہا۔بیشک خدا تعالیٰ نے تمہیں یہ موقع دیا ہے مگر یہ موقع خدا تعالیٰ نے تمہیں اپنی شرافت کے اظہار کا دیا ہے تمہیں چاہئے کہ تم اس کے خلاف پروٹیسٹ کرو کہ ایک مسکین اور بے کس لڑکی کے خلاف اخبارات میں جو پرو پیگنڈا کیا جا رہا ہے یہ نہایت ہی کمینہ پن اور اخلاق سے گرا ہوا فعل ہے۔چنانچہ ہمارے اخبار میں عام اخبارات کے رویہ کے ( الفضل ۸ ستمبر ۱۹۳۸ء صفحه ۶ ) خلاف پروٹیسٹ کیا گیا۔۔۔سی سلسلہ میں حضور نے فرمایا : - وو اگر دشن گالیاں دیں، بدزبانیاں کریں، نا پاک الزام لگا ئیں تو سمجھنا چاہئے کہ ناکام و نا مراد دشمن گالیاں ہی دیا کرتا ہے مگر فتح مند فوج مسکراتی ہوئی گزر جاتی ہے۔پس ہماری جماعت کو ان امور کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے بلکہ صبر و استقلال سے کام کرتے جانا چاہئے“ (الفضل ۲۸۔دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۳) مقابلہ کا انداز حضرت فضل عمر نے دشمنوں کی دشمنی اور مخالفوں کی مخالفت کے جواب میں اشتعال انگیزی، دشنام دہی ، بدزبانی ، بے جا الزامات، غیر اخلاقی زبان کبھی بھی استعمال نہ کی حالانکہ آپ کے مخالفوں کی طرف سے یہ سب باتیں بڑے دل آزار طریق پر مسلسل ہوتی رہتی تھیں۔حضور کے مقابلہ کے انداز بہت ہی پیارے تھے مثلاً مسابقت في الخیرات آپ کا مقابلہ کا ایک نہایت مؤثر طریق تھا اس کی طرف بلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔وو میں نے بار ہا چیلنج کیا ہے کہ وہ لوگ جو تم میں سے نکل کر ہم میں شامل ہوئے ہیں ان کی بھی گنتی کر لو اور جو لوگ ہم میں سے نکل کر تم میں شامل ہوئے ہیں اُن کی بھی گنتی کر لو، پھر تمہیں خود بخو دمعلوم ہو جائے گا کہ کون بڑھ رہا ہے اور کون گھٹ رہا ہے مگر انہوں نے کبھی اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔اسی طرح میں نے بار بار چیلنج دیا ہے کہ تم اس بات میں بھی ہمارا مقابلہ کر لو کہ تمہارے ذریعہ سے کتنے لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں مگر انہیں کبھی اس مقابلہ کی توفیق بھی نہیں ملی