سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 117 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 117

117 جماعت اس کی ہر ممکن اور جائز مدد کرے گی اور قانونی طور پر جس قدر بھی اس کی تائید کر سکے گی اس کی تائید کرے گی۔اس شخص کا غم ہمارا غم ہوگا اور اس کی مصیبت ہماری مصیبت لیکن اگر وہ شخص بُزدلی سے کام لے گا اور اپنی ضمیر کے خلاف جھوٹ سے اپنی مصیبت کو ٹلا نا چاہے گا وہ ہم میں جگہ نہیں پائے گا اور خدا کی پاک جماعت اسے اپنی آغوش میں نہیں لے گی۔میں آخر میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اخلاق فاضلہ کو ہمیشہ مدنظر رکھو اور ان کو نظر انداز کر کے خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور گورنمنٹ کی پریشانی کا موجب نہ بنو اور اگر خدا تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ، با وجود دیانت داری سے امن کی راہ پر چلنے کے کوئی مصیبت آ جائے تو بہادری اور جرات سے اس کو برداشت کرو اور اپنے ایمان کو داغدار مت کرو۔خاکسار مرزا محمود احمدخلیفة المسیح الثانی قادیان ۱۱۔دسمبر ۱۹۲۳ء (الحکم ۱۴۔دسمبر ۱۹۲۳ء صفحه ۵ ) اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ دنیا میں آپ کے بہت سے دشمن تھے۔جماعت احمدیہ کا امام ہونے کے ناطے جماعت کے تمام معاند آپ کی زندگی میں سب سے زیادہ جسے دشمنی ونفرت کے قابل سمجھتے تھے وہ آپ کے سوا کوئی اور نہ تھا۔ان دشمنوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک قسم وہ ہے جو دیانت داری سے اپنے مذہب کی حمایت کے جوش و جذبہ کی وجہ سے آپ کی مخالفت و دشمنی کو خدائی فریضہ سمجھتے تھے۔ان کی دشمنی بغض و عداوت کی بجائے اسلام سے محبت اور احمدیت سے ناواقفیت اور عدم علم کی وجہ سے تھی۔ایسے بہت سے خوش قسمت جب کسی حُسنِ اتفاق سے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے یا کسی طریق سے حضور سے ان کا تعلق قائم ہوا تو وہ اپنی اس خوشگوار حیرت بلکہ ندامت کو چُھپا نہ سکے کہ ہم تو بالکل کچھ اور ہی سمجھ رہے تھے جب کہ حقیقت حال بالکل اس کے برعکس ہے اور ہزاروں ایسے دشمن آپ کے قریب آنے اور آپ کے حالات کو جاننے کے بعد آپ کے حلقہ بگوش حسن واحسان ہو گئے اور دشمنی و عداوت کی بجائے آپ کی عقیدت و محبت سے سرشار دونوں جہان میں سرخروئی حاصل کر گئے۔آپ سے دشمنی کرنے والوں کی دوسری قسم ایسے افراد کی تھی جو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے کہ وہ اپنی دشمنی کی دُکان جھوٹ و فریب سے چپکا رہے ہیں اور ان کا مقصد محض ذاتی انا کی تسکین یا