سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 108
108 سے شائع ہوا:۔کچھ عرصہ ہوا میرے ایک رشتہ دار مولوی عبد الرحمن صاحب سکول ماسٹر موضع لدھیوالہ وڑائچ ضلع گوجرانوالہ کو ڈسٹرکٹ بورڈ کی طرف سے حکم ملا کہ آپ کو فلاں تاریخ سے ریٹائر ڈ کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک مدرس چارج لینے کے واسطے بھیج دیا گیا۔اس پر مولوی صاحب کو بڑا افکر ہوا کہ اب گھر کا گذارہ کیسے چلے گا کیونکہ میرا لڑکا بھی۔گا کیونکہ میرا لڑکا بھی بے روزگار ہے۔اسی فکر میں وہ قادیان حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں دعا کے لئے گئے اور وہاں تین روز تک ٹھہرے مگر حضور سے ملاقات نہ ہو سکی اس سے وہ اور بھی گھبرائے مگر دفعتاً انہیں خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ تو جانتا ہی ہے کہ میں کس مقصد کے لئے اس کے مقرر کردہ خلیفہ کے دربار میں حاضر ہوا ہوں۔اس پر مولوی صاحب نے چٹھی لکھ کر بکس میں ڈال دی اور واپس گھر آگئے۔رات کو خواب میں دیکھا کہ حضور پرنور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایک کرسی پر رونق افروز ہیں سامنے ایک میز پر کتاب ہے۔حضور اس کتاب کے ورق کبھی ایک طرف کو الٹتے ہیں کبھی دوسری طرف کو اور مولوی صاحب سے فرمایا۔آپ کیا چاہتے ہیں۔انہوں نے عرض کیا حضور میں نوکری سے علیحدہ کیا جارہا ہوں۔ان دنوں میرا لڑکا بھی بے روز گار ہے گھر کا گزارا کیسے چلے گا۔اس پر حضور نے فرمایا۔جبکہ حکام فیصلہ کر چکے ہیں تو اب کیا ہو سکتا ہے۔عرض کیا کہ حضور میں آپ کے پاس اسی لئے آیا ہوں آپ کوئی تجویز بتائیں اور دعا بھی کریں۔حضور نے فرمایا۔اچھا جاؤ۔لاہور ایک درخواست بھیج دو آپ بحال رہیں گے۔صبح اٹھ کر مولوی صاحب نے اس مدرس سے جو چارج لینے کے واسطے آیا ہوا تھا کہا کہ میں بحال رہوں گا اور دفتر میں بھی جا کر اسی طرح کہا۔اس پر وہ سب کہنے لگے کہ مولوی صاحب آپ کیا کہہ رہے ہیں جبکہ فیصلہ ہو چکا ہے تو اب بحال کیسے رہ سکتے ہیں۔بعض نے تو یہاں تک کہا کہ مولوی صاحب کے دماغ میں خلل ہو گیا ہے۔خیر مولوی صاحب نے ایک درخواست حسب الحکم حضور لاہور بھیجی۔وہاں سے حکم آگیا کہ ۵۵ سال سے کم عمر مدرس ریٹائر نہ کئے جائیں اس طرح