سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 97 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 97

97 ہاں ہم ضرور مانتے ہیں کہ مومن کے لئے جہاں دنیوی رستے بند ہو جاتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ اس کی دعا کی برکت سے ان بند راستوں کو کھول دیتا ہے۔میں نے ایک دفعہ جس طرح خدا سے ناز کرتے ہیں اس سے ناز کرتے ہوئے ایک دعا کی۔وہ جوانی کے ایام تھے اور ہم ایک ایسی جگہ سے گزر رہے تھے جہاں اس دعا کے قبول ہونے کی بظاہر کوئی صورت نہ تھی مگر محبت الہی کے جوش میں اس سے ناز کرتے ہوئے میں نے کہا خدایا تو مجھے ایک روپیہ دلا۔میں اس وقت جالندھر اور ہوشیار پور کی طرف گیا ہوا تھا اور کا ٹھگڑھ سے واپس آ رہا تھا کہ اس سفر میں ایک ایسے علاقے سے گزرتے ہوئے جہاں کوئی احمدی نہ تھا میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا۔شاید اللہ تعالیٰ اپنی قدرت ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ جنگل میں سے گزرتے ہوئے میرے دل سے یہ دعا نکلی۔حاجی غلام احمد صاحب اور چوہدری عبدالسلام صاحب میرے ساتھ تھے۔اتنے میں چلتے چلتے ایک گاؤں آگیا اور ہم نے دیکھا کہ اس گاؤں کے دو چار آدمی باہر ایک مکان کے آگے کھڑے ہیں۔حاجی صاحب اور چوہدری عبدالسلام صاحب ان کو دیکھتے ہی میرے دائیں بائیں ہو گئے اور کہنے لگے۔اس گاؤں کے لوگ احمدیت کے سخت مخالف ہیں اگر کوئی احمدی ان کے گاؤں میں سے گزرے تو یہ لوگ اسے مارا پیٹا کرتے ہیں۔آپ درمیان میں ہو جائیں تا کہ یہ لوگ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔اتنے میں ان میں سے ایک شخص نے جب مجھے دیکھا تو میری طرف دوڑ پڑا انہوں نے سمجھا کہ شاید حملہ کرنے کے لئے آیا ہے مگر جب وہ میرے قریب پہنچا تو اس نے سلام کیا اور ہاتھ بڑھا کر ایک روپیہ پیش کیا کہ یہ آپ کا نذرانہ ہے۔گاؤں سے باہر نکل کر وہ دوست حیران ہو کر کہنے لگے ہمیں تو ڈر تھا کہ یہ شخص آپ پر حملہ نہ کر دے۔مگر اس نے تو نذرانہ پیش کر دیا۔میں اس وقت ان کی بات سے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ خیال غالباً اسی لئے پیدا کیا تھا کہ وہ اپنی قدرت کو ظاہر کرنا چاہتا اور بتانا چاہتا تھا کہ لوگوں کے دل میرے اختیار میں ہیں۔غرض جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق آتا ہے تو ایسی ایسی جگہوں سے آتا ہے کہ انسان کو اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔