سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 96 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 96

96 ہزار سال کے برابر ہوتا ہے اگر میں تین دنوں کے بعد زندہ رہا تو آپ بے شک اعتراض کریں لیکن جب تک تین دن ختم نہیں ہوتے میری مہمانی بھی ختم نہیں ہو سکتی۔اسی طرح میں نے کئی دفعہ سنایا ہے حضرت مسیح موعود کو آخری عمر میں ایک دفعہ سخت کھانسی ہوئی یہ کھانسی اتنی شدید تھی کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں پٹیالوی نے اخبارات میں اس کا ذکر پڑھ کر شائع کر دیا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔مرزا صاحب کو سل ہوگئی ہے۔میں ہی آپ کو دوائی پلایا کرتا تھا اور میں سمجھا کرتا تھا کہ آپ کی بیماری کے معاملات میں مجھے دخل دینے کا حق ہے۔ایک دفعہ آپ لیٹے ہوئے تھے کہ آپ کو کھانسی کا سخت دورہ اُٹھا ، میں نے آپ کو دوائی پلائی، ابھی میں دوائی پلا کر ہٹا ہی تھا کہ کوئی دوست پھلوں کی ایک ٹوکری دے گئے جس میں کیلے بھی تھے۔کیلا نزلہ اور کھانسی پیدا کیا کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہماری والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ کھانسی میں کیلا کھانا کیسا ہوتا ہے۔والدہ صاحبہ کہنے لگیں کہ کیلا کھانے سے نزلہ بڑھ جاتا ہے۔پھر مجھ سے پوچھا اور فرمایا۔کھانسی میں کیلا کیسا ہوتا ہے۔میں نے کہا شدید مضر ہوتا ہے۔یہ پوچھ کر آپ نے فرمایا۔ٹوکری ادھر کرو۔ہم نے ٹوکری آپ کی طرف کی تو آپ نے ایک کیلا اُٹھایا اور چھلکا اُتار کر اسے کھانا شروع کر دیا۔میں نے یہ دیکھتے ہی شور مچانا شروع کر دیا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں۔ابھی آپ کو کھانسی کا شدید دورہ ہوا ہے اور کیلا کھانسی میں سخت مضر ہوتا ہے۔آپ میری باتیں سن کر مسکراتے رہے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد فرمانے لگے۔مجھے ابھی الہام ہوا ہے کہ تمہاری کھانسی جاتی رہی اس لئے میں نے کیلا کھا لیا ہے کیونکہ جب خدا نے کہا ہے کہ کھانسی جاتی رہی تو کیلا کس طرح کھانسی پیدا کرسکتا ہے۔اب اس کے یہ معنی نہیں کہ جس شخص کو کھانسی کی شکایت ہو وہ بے شک کیلا کھا لیا کرے۔وہی شخص ایسا کر سکتا ہے جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے صحت کی خبر دی گئی۔اسی طرح جس شخص کو خدا کہہ دے کہ تمہیں رزق کے لئے کسی تدبیر کی ضرورت نہیں اس کے رزق کا ذمہ دار خود خدا ہو جاتا ہے لیکن باقی لوگوں کے متعلق حصول رزق کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہی قانون مقر ر کیا ہوا ہے کہ وہ کوشش کریں۔