سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 95 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 95

95 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) نے فرمایا۔۔۔۔۔۔جب تک کوئی پیمانہ ایسا نہ ہو جس سے ایک شخص کی دعا اور دوسرے کی تدبیر کا باہم موازنہ کیا جا سکے۔اس وقت تک یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس میدان میں تدبیر دعا سے بڑھ کر ہے۔اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا کہ رزق کے متعلق مومنوں کو صرف دعا اور توکل سے کام لینے کا حکم نہیں بلکہ متد بر سے بھی کام لینے کا حکم ہے اور دعا اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک ظاہری جد و جہد اور ظاہری کوشش کا سلسلہ بھی جاری نہ رکھا جائے۔ہاں بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے رزق کا اللہ تعالیٰ خود ذمہ دار ہوتا ہے ایسے لوگوں کو بغیر تدبیر کے ہی اللہ تعالیٰ رزق پہنچا دیتا ہے۔کہتے ہیں کوئی بزرگ تھے انہیں ایک دفعہ الہام ہوا کہ تمہیں اب کمائی کی ضرورت نہیں ہم خود تمہیں رزق دیں گے۔چنانچہ انہوں نے روزی کمانی چھوڑ دی ان کے بیوی بچوں کو فکر پیدا ہوا کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ہم تو بھوکے مرنے لگیں گے چنانچہ انہوں نے اور ان کے دوسرے رشتہ داروں نے انہیں سمجھانا شروع کر دیا کہ آپ یہ کیا کرتے ہیں آپ کوئی کام کریں اور فارغ نہ بیٹھیں ایسا نہ ہو کہ فاقوں تک نوبت پہنچ جائے۔وہ کہنے لگے میں اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتا ہوں وہ خود میری روزی کا سامان پیدا کرے گا۔جب وہ کسی طرح نہ مانے تو انہوں نے تنگ آکر ان کے ایک دوست سے جو خود بھی بزرگ تھے کہا کہ آپ انہیں سمجھا ئیں شاید وہ آپ کی بات مان جائیں۔چنانچہ وہ آئے اور انہوں نے کہا کہ آپ کام کیا کریں، فارغ نہ بیٹھیں۔انہوں نے جواب دیا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوں اور مہمان اگر اپنا کھانا آپ پکائے تو میزبان بُرا منایا کرتا ہے۔اس لئے میں تو اپنے کھانے کا فکر نہیں کر سکتا۔وہ کہنے لگا آپ اگر اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں تو سنئے۔رسول کریم صلی اللها و الا سلام فرماتے ہیں کہ مہمانی صرف تین دن ہوتی ہے اس سے زیادہ نہیں پس آپ بھی تین دن ایسا کر سکتے ہیں ہمیشہ کے لئے ایسا نہیں کر سکتے۔وہ کہنے لگے میں جس کا مہمان ہوں وہ فرماتا ہے۔اِنَّ يَوْماً عِندَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (الحج: (۴۸) کہ میرا ایک دن