سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 81 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 81

81 وو میں ڈائریکٹر جنرل صاحب انڈین میڈیکل سروس شملہ کے دفتر میں ملازم تھا۔۱۹۲۸ء کا واقعہ ہے۔جب میں ابھی ملازمت میں ہی تھا کہ حضرت (خلیفتہ المسیح الثانی) نے درس قرآن شریف کا اعلان فرمایا اور میں بھی استفادہ کی غرض سے رخصت لے کر آ گیا اور درس میں شامل ہوا۔چونکہ میری عمر ۵۵ سال سے تجاوز کر چکی تھی اور میں ملازمت کی حد بھی پوری کر چکا تھا اس لئے میں نے اپنے دفتر کے چیف سپرنٹنڈنٹ سے جو ایک انگریز تھا زبانی کہہ دیا کہ میرا اب واپس آنے کا ارادہ نہیں اور رخصت ختم ہونے پر میں پنشن کی درخواست کر دوں گا۔درس ختم ہونے پر میں نے حضور کی خدمت میں اپنے پینشن کے ارادہ کا اظہار کیا تو حضور نے فرمایا کہ ابھی اور ملازمت نہیں کر سکتے۔میں نے عرض کیا کر سکتا ہوں فرمایا پھر ا بھی واپس جاؤ اور جتنی اور ملازمت ہو سکتی ہے کرو۔میں نے اسی وقت چیف سپر نٹنڈنٹ صاحب کو لکھ دیا کہ میں واپس آ رہا ہوں۔اس اثناء میں گورنمنٹ کی طرف سے گریڈ میں اضافہ منظور ہو گیا تھا اور سینیئر ہونے کی وجہ سے میرا ترقی کا حق تھا مگر جب میں واپس گیا تو چیف سپرنٹنڈنٹ صاحب نے کہا کہ تمہارے لئے ترقی کی سفارش نہیں ہو سکتی کیونکہ اول تو تم رخصت پر جاتے ہوئے کہہ گئے تھے کہ تم پنشن لے لو گے۔دوسرے چونکہ تمہاری عمر ۵۵ سال سے زیادہ ہو چکی ہے تم ترقی سے پورا فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔سوم جب تمہاری عمر اور ملازمت دونوں کی معمولی حد گزر چکی ہے تو اب ترقی کا فائدہ کسی دوسرے کم عمر والے کو ملنا چاہئے۔میں نے بہتیرا کہا کہ جن حالات میں میں گیا تھا وہ بدل گئے ہیں اس لئے میں واپس آ گیا ہوں اور گو عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے میں پورا فائدہ ترقی سے حاصل نہیں کر سکتا مگر جو میرا حق ہے وہ مجھے ملنا چاہئے لیکن وہ نہ مانے اور انہوں نے مجھ سے نیچے کے ایک دوسرے آدمی کی سفارش کر دی۔میرے لئے یہ مشکل تھی کہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل صاحب جن کے ہاتھ میں عملہ کے اس قسم کے جملہ معاملات تھے وہ رخصت پر تھے اور ان کی جگہ جو افسر عارضی طور پر کام کر رہا تھا وہ مجھے جانتا نہیں تھا۔علاوہ اس کے ہماری برانچ کے جو افسر اعلیٰ تھے یعنی پبلک ہیلتھ کمشنر صاحب گورنمنٹ انڈیا وہ بھی رخصت پر