سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 78 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 78

78 مقام جسے کوئی شہرت حاصل نہ تھی ، کوئی عزت حاصل نہ تھی، کوئی دبدبہ اور رعب حاصل نہ تھا اللہ تعالیٰ نے اسے آپ کی برکت سے ایسی ترقی بخشی کہ آج دشمن تک حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ترقی حیرت انگیز ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے چونکہ مجھے بھی ابراهیم قرار دیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ سے شہر سے باہر کی نئی آبادی کی بنیا د رکھوا دی بے شک جہاں تک قادیان کی شہرت اور اس کی عظمت کا سوال ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی قادیان کو یہ برکت حاصل ہو چکی تھی مگر جہاں تک شہر سے باہر نئی آبادی کا سوال ہے یہ سب کی سب آبادی میرے زمانہ میں ہوئی ہے۔یہ دار الفضل اور دار الرحمت اور دار البرکات شرقی اور دار البرکات غربی، دارالشکر دار الیسر، دار الفتوح، دارالا نوار سب کے سب وہ محلے ہیں جو میرے زمانہ میں آباد ہوئے۔یہی وجہ ہے کہ فرشتہ نے مجھے کہا کہ ایک ابراھیم تم بھی ہو۔“ الفضل ۸ - جون ۱۹۴۵ء صفحه ۳۴۲) اور آج ربوہ کی نئی بستی جس کی بنیا د حضرت مصلح موعود کے ہاتھ سے رکھی گئی شہادت دے رہی ہے کہ آپ ابراھیم ہیں آپ نے ابراھیمی دعاؤں کے ساتھ اس کی بنیاد رکھی۔فَالْحَمْدُ لِلهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِله۔دعاؤں کی قبولیت میں بھی قرب الہی اور تعلق پاللہ کا ایک درخشاں نشان ہے۔مکرم خواجہ غلام نبی صاحب لمبا عرصہ روزنامہ الفضل کے مدیر ہے اور انہیں یہ شرف حاصل تھا کہ انہوں نے مضمون نویسی کی ابتدائی تربیت حضرت فضل عمر سے حاصل کی اور حضور کی اکثر ابتدائی تقاریر ان کی محنت ولگن سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئیں۔آپ حضور کی قبولیت دعا کا ایک روشن نشان بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں :- ۳۱۔دسمبر ۱۹۱۴ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے میرا نکاح پڑھا جس کا حضور نے خود ہی انتظام فرمایا تھا اس کے بعد کئی سال تک اولاد نہ ہوئی اور نہ ہی کبھی میں نے اس کے لئے دعا کی درخواست کی۔اس خیال سے کہ حضور کو معلوم ہی ہے حتی کہ ۱۹۲۲ء میں حضور کا ایک مکتوب اخبار میں اشاعت کے لئے ملا جس میں درخواست دعا نہ کرنے کے متعلق چند باتیں درج تھیں۔مثلاً یہ کہ :- انسان کو دعا پر مخفی طور پر یقین نہیں ہوتا وہ خود تو بعض دفعہ دعا کر لیتا ہے مگر دوسرے سے کہتے