سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 62
62 میں کھانا نہ کھا سکا میں آجکل شام کو کھانا نہیں کھایا کرتا بلکہ سحری کو کھا تا ہوں لیکن آج سحری کو بھی نہ کھا سکا۔اس وجہ سے بھی لمبی تقریر کرنا مشکل ہے تاہم میں کوشش کرونگا کہ جسقد رہو سکے بیان کروں کیوں کہ احباب دُور دور سے آئے ہیں۔“ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ء صفحه ۱۳،۱۲) حضرت خلیفہ اول بھی حضور کی نیکی اور تقویٰ کے معترف اور قدر دان تھے یہی وجہ ہے کہ آر کی نوعمری کے باوجود آپ کو امام الصلوۃ اور خطیب مقرر کیا ہوا تھا۔ایک دفعہ جب آپ سے کسی نے اس امر کے متعلق دریافت فرمایا تو آپ نے فرمایا۔قرآن کریم نے تو ہمیں یہ بتایا ہے کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ (الحجرات :۱۴) مجھ کو جماعت میں میاں صاحب جیسا کوئی متقی بتا دیں مزید برآں تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت خلیفہ اول حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب سے ہرا ہم کام میں مشورہ لیتے ، سب سے زیادہ آپ کو اپنا مزاج شناس سمجھتے اور اہم امور کی بہتر سرانجام دہی کے لئے دعا کی درخواست بھی کرتے۔آپ کے زہد و تقویٰ کا اس امر سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے شروع سے ہی اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کر دیا تھا اور کسی دنیوی کام اور دھندے کی طرف رغبت نہ رکھی تھی اس کا ثبوت مندرجہ ذیل واقعہ سے ملتا ہے جو حضور نے خود بیان فرمایا ہے:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ایک دن ہمارے نانا جان والدہ صاحبہ کے پاس آئے اور انہوں نے غصہ میں رجسٹر زمین پر پھینک دیئے اور کہا کہ میں کب تک بڑھا ہو کر بھی تمہاری خدمت کرتا رہوں اب تمہاری اولاد جوان ہے اس سے کام لو اور زمینوں کی نگرانی ان کے سپر د کرو۔والدہ نے مجھے بلایا اور رجسٹر مجھے دے دیئے اور کہا کہ تم کام کرو تمہارے نانا یہ رجسٹر پھینک کر چلے گئے ہیں۔میں ان دنوں قرآن اور حدیث کے مطالعہ میں ایسا مشغول تھا کہ جب زمینوں کا کام مجھے کرنے کے لئے کہا گیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے مجھے قتل کر دیا ہے۔مجھے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ جائداد ہے کیا بلا اور وہ کس سمت میں ہے مغرب میں ہے یا مشرق میں شمال میں ہے یا جنوب میں۔“ ( الفضل ۲۲۔اکتوبر ۱۹۵۵ء)