سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 621 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 621

558 سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے مخصوص حلقہ کے علاوہ بھی ان کی تجاویز عام مسلمانوں کے لئے مفید ہو سکتیں تھیں۔اور اگر ان کو محض تعصب کی بناء پر قیادت کا وسیع میدان نہیں ملا تو اس سے ملت اسلامیہ اور ملک دونوں کو نقصان ہی ہوا ہے۔اس سلسلے میں اس امر کا تذکرہ خاص طور پر ایک تلخی اپنے اندر رکھتا ہے کہ کشمیر کمیٹی کی قیادت ان سے چھین لی گئی اس کے بعد مسئلہ کشمیر کا جو حشر ہوا وہ محتاج بیان نہیں۔اس ضمن میں ایک واقعہ کا ذکر کرنا بھی شاید بے محل نہ ہو گا ہفتہ وار پارس‘ کے ایڈیٹر لالہ کرم چند ایک دفعہ اخبار نویسوں کے وفد کے ساتھ قادیان کے سالانہ اجلاس میں شامل ہوئے وہاں سے واپس آئے تو یکے بعد دیگرے کئی مضامین مرزا بشیر الدین محمود احمد کی قیادت ، فراست اور شخصیت کا ذکر ایسے پیرائے میں کیا کہ مخالفوں میں کھلبلی مچ گئی۔مجھے خود کہنے لگے ہم تو ظفر اللہ کو بڑا آدمی سمجھتے تھے۔(سر ظفر اللہ ان دنوں وائسرائے کے ایگزیکٹو کونسل کے ممبر تھے ) مگر بشیر الدین محمود احمد صاحب کے سامنے اس کی حیثیت ایک طفلِ مکتب کی ہے وہ ہر معاملے میں ان سے بہتر رائے رکھتا ہے اور بہترین دلائل پیش کرتا ہے اس میں بے پناہ تنظیمی قابلیت ہے۔ایسا آدمی بآسانی کسی ریاست کو بامِ عروج تک لے جا سکتا ہے۔لالہ کرم چند پارس کے یہ مضامین پارس میں شائع ہوئے تو ایک آریہ سماجی شاعر نے جل کر اپنے اخبار میں لکھا : - تیرے گیت گائے ہوئے آر ہے ہیں عجیب شے ہے مرزا تیری مہمانی ظفر اللہ ہے قادیانی جنم کا کرم چند رو روز کا قادیانی لالہ کرم چند نے سن کر کہا : - شنیده کے بود مانند دیده تقسیم ملک کے بعد مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے لاء کالج لاہور کے مینارڈ ہال میں ملکی ترقی کے امکانات پر چند تقریریں کی تھیں۔ان تقریروں