سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 605 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 605

541 ایک معزز ہند و دوست کا خط حضرت امام جماعت احمدیہ کے حضور : - مقدس ذات حضرت امام جماعت احمدیہ! آپ کو میرا بار بار سلام ہو۔آپ کا رسالہ کرشن سندیش، میں نے اپنے دوست سے لے کر پڑھا۔اسے پڑھ کر مجھے بڑی تسلی ہوئی۔میرے خیال میں مسلمانوں کی یہ جماعت احمدیہ قادیان پہلی ہی جماعت ہے جو اسقدر فراخدلی سے دنیا کو ٹھیک راستہ پر چلانے کا انتظام کر رہی ہے۔اس آپس کی لڑائی اور جھگڑوں کے زمانہ میں جب کہ اشرف المخلوقات کہلانے والے انسان خونخوار جنگلی جانوروں سے بھی بدتر طریقے دوسروں کو ستانے میں استعمال کر رہے ہیں۔آپ کی تعلیم کی اور بھی بہت ضرورت ہے۔خدا کرے آپ کی جماعت پھلے پھولے۔میں آپ کے قادیان اور آپ کے درشن کرنے کی خواہش رکھتا ہوں۔مجھے تو آپ کی جماعت کے لئے ادب و احترام پیدا ہو گیا ہے۔۔۔66 الفضل ۳۱ جولائی ۱۹۴۷ء صفحه ۲) حضور نے ۲۶ فروری ۱۹۱۹ء کو حبیبیہ ہال میں ایک تقریر فرمائی اس کا عنوان تھا اسلام میں اختلافات کا آغاز اس جلسہ کے صدر مؤرخ اسلام جناب سید عبدالقادر صاحب ایم اے تھے۔سید صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا : - و آج کے لیکچرار اس عزت ، اس شہرت اور اس پائے کے انسان ہیں کہ شاید ہی کوئی صاحب نا واقف ہوں آپ اس عظیم الشان اور برگزیدہ انسان کے خلف ہیں جنہوں نے تمام مذہبی دنیا اور بالخصوص عیسائی عالم میں تہلکہ مچا دیا تھا خاتمہ تقریر پر صدر مجلس نے فرمایا :- حضرات ! میں نے بھی کچھ تاریخی اوراق کی ورق گردانی کی ہے اور آج شام کو جب میں اس ہال میں آیا تو مجھے خیال تھا کہ اسلامی تاریخ کا بہت سا حصہ مجھے بھی معلوم ہے اور اس پر میں اچھی طرح رائے زنی کر سکتا ہوں لیکن اب جناب مرزا صاحب کی تقریر کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ میں ابھی طفلِ مکتب ہوں اور میری علمیت کی روشنی اور جناب مرزا صاحب کی علمیت کی روشنی میں وہی نسبت ہے جو اس لیمپ (جو میز پر تھا ) کی روشنی کو اس بجلی کے