سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 50
50 لئے بہت سے خطرے پوشیدہ ہیں جن سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا بندوبست نہ کرنا خودکشی کے مترادف ہوگا“ تیج ۲۵۔جولائی ۱۹۲۷ء بحواله الفضل ۵ - اگست ۱۹۲۷ء صفحه ۸) حضرت مصلح موعود کی کوشش اس لحاظ سے بھی نتیجہ خیز ثابت ہوئی کہ انگریزی حکومت نے ضابطہ فوجداری میں ایک دفعہ کا اضافہ کر کے مذہبی رہنماؤں کی تو ہین کو قابل دست اندازی پولیس حجرم قرار دیا۔جلسہ ہائے سیرت النبی غیر مسلموں کی ان دل آزار حرکتوں کی وجہ سے ہر دردمند مسلمان نے اپنی جگہ تکلیف اور دکھ محسوس کیا اور اپنے اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔حضرت فضل عمر کا رد عمل اپنی شان میں نرالا اور بے مثال تھا جیسا کہ گذشتہ صفحات میں کسی قدر ذکر آچکا ہے۔اسی سلسلہ میں ایک اور درخشندہ باب کا اضافہ ہوا اور ملک بھر میں منظم طریق پر سیرت النبی صلی المیہ اورمسلم کے جلسوں کا انعقاد شروع ہوا۔اس بابرکت تجویز کو پیش کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- " لوگوں کو آپ پر حملہ کرنے کی جرات اس لئے ہوتی ہے کہ وہ آپ کی زندگی کے صحیح حالات سے نا واقف ہیں یا اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگ ناواقف ہیں اور اس کا ایک ہی علاج ہے جو یہ ہے کہ رسول کریم صلی الشماری اورمسلم کی سوانح پر اس کثرت سے اور اس قدر زور کے ساتھ لیکچر دیے جائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ آپ کے حالات زندگی اور آپ کی پاکیزگی سے آگاہ ہو جائے اور کسی کو آپ کے متعلق زبان درازی کرنے کی جرات نہ رہے۔جب کوئی حملہ کرتا ہے تو یہی سمجھ کر کہ دفاع کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔واقف کے سامنے اس لئے کوئی حملہ نہیں کرتا کہ وہ دفاع کر دے گا۔پس سارے ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو رسول کریم صلی علیہ و سلم کی پاکیزہ زندگی سے واقف کرنا ہمارا فرض ہے اور اس کے لئے بہترین طریقہ یہی ہے کہ رسول کریم صلی السماوی اورمسلم کی زندگی کے اہم شعبوں کو لے لیا جائے اور ہر سال خاص انتظام کے ماتحت سارے ہندوستان میں ایک ہی دن ان پر روشنی ڈالی جائے تا کہ سارے ملک میں شور مچ جائے اور