سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 577 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 577

519 کے بعد ہمیشہ کے لئے وہ ابتلاء ختم ہو گیا۔خدائی کلام میں حضور کے متعلق بتایا گیا تھا کہ وہ دل کا حلیم ہوگا ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کی گواہی بہت ہی قابل قدر اور قیمتی ہے۔کیونکہ انہیں ایک لمبا عرصہ حضور کی خدمت میں رہنے کا شرف حاصل رہا۔حضرت ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں :- حضور کے علم کی سب سے بڑی مثال تو یہی ہے کہ یہ خاکسار ایک کم فہم اور بے ہنر سا آدمی ہے اور بظاہر حضور کا طبی خادم بھی ہے اور حضور کی نازک طبیعی کی کوئی حد نہیں ہے اور بیماری کے دنوں میں ہر ایک بیمار کی طبیعت چڑ چڑی ہو جاتی ہے۔اور یہ عاجز اس امر کا اعتراف کرتا ہے کہ مجھ سے کوتا ہیاں بھی ہو جاتی رہی ہیں لیکن ان سب باتوں کو آپ نے برداشت کئے رکھا اور مجھے اپنے سے دور نہیں کیا۔آج اس پر ۴۶ سال کا عرصہ گذر رہا ہے۔اکرام اولاد اور بچوں سے شفقت کی روح پرور مثال ۲۴۔اکتوبر صبح نو بجے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اساتذہ اور طلبہ کی طرف سے جناب مولوی عبد الرحیم صاحب درد کے اعزاز میں ٹی پارٹی دی گئی۔اور ایڈریس پیش کئے گئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی اس مجلس میں شمولیت فرمائی۔جب تقریر میں شروع ہوئیں اور سب طلبہ کمرہ میں داخل ہوئے تو ان کے لئے جو فرش کیا گیا تھا وہ ناکافی ثابت ہوا۔اس وجہ سے بعض بچوں کو زمین پر بیٹھنا پڑا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ یہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور ہیڈ ماسٹر صاحب سے فرمایا۔جب تک ان بچوں کے بیٹھنے کے لئے فرش کا انتظام نہ کیا جائے گا میں بھی نہیں بیٹھوں گا فوراً ٹاٹ مہیا کئے گئے اور جب بچے ان پر بیٹھ چکے تو حضور بھی بیٹھ گئے۔الفضل ۶ - نومبر ۱۹۲۸ء صفحه ۵) ایک اندوہناک افواہ اور اس کا رد عمل جماعت احمدیہ کو اپنے امام سے جو محبت و عقیدت تھی اس کا اظہار تو حضور کے ہر ارشاد پر دل و جان سے عمل کرنے اور مالی قربانی کی تحریکات میں دل کھول کر حصہ لینے سے ہوتا ہی رہتا تھا تا ہم ۱۹۳۰ء میں ایک عجیب صورتحال کی وجہ سے جماعت کے اخلاص اور غیر معمولی