سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 574 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 574

516 خَيْرُ أَئِمَّتِكُمْ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ یعنی تمہارے بہترین امام وہی ہوں گے کہ تم ان سے محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں۔حضور چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی قانون کا احترام اور تقویٰ کی باریک راہوں کو مدنظر رکھتے تھے۔مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اپنا دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں جس سے حضور کی ނ حس مزاح کا بھی پتہ چلتا ہے۔میرا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ حضور نے قانون کی پابندی کی باریک باریک راہوں کا بھی خیال رکھا۔مثلاً ریل پر سفر کرتے ہوئے اس امر کا خصوصیت سے جائزہ لیتے کہ کرایہ پوری شرح سے ادا ہو۔اگر کسی بچہ کی عمر ساڑھے بارہ سال ہو گئی تو خواہ بظاہر وہ اس عمر سے چھوٹا ہی نظر آتا ہو اس کا پورا ٹکٹ خرید کروایا۔اسی طرح حضور اکثر سیکنڈ کلاس میں ریزرو کمپارٹمنٹ میں سفر کرتے۔جب کسی سٹیشن پر کوئی خادم کسی خدمت کی بجا آوری کے لئے حاضر ہوتا تو آپ اسے ٹرین کے روانہ ہونے سے پہلے اپنی جگہ پر جا بیٹھنے کی تاکید فرماتے تاکہ ریلوے کے قوانین کی پوری پابندی رہے۔اوائل ۱۹۲۱ء میں ڈاکٹر انیس ورتھ تھروٹ سپیشلسٹ نے تبدیلی آب و ہوا کا مشورہ دیا اور تاکید کی کہ روزانہ کافی دیر تک کسی دریا وغیرہ کے کنارہ پر بیٹھا کریں۔مثلاً مچھلی کے شکار کا مشغلہ اختیار کر لیا کریں۔اس غرض کے لئے حضور کشمیر تشریف لے گئے اور سری نگر ایک ہاؤس بوٹ میں رہائش رکھی اور ساتھ ہی مچھلی کے شکار کے لئے آپ نے اپنے نام کا لائسنس بھی بنوا لیا مگر صرف ایک دن ہی وہ بھی کوئی ایک گھنٹہ ہی یہ شغل کیا۔کچھ دنوں بعد ایک مقام گاندھی پل پر تشریف لے گئے مجھے نالہ میں جہاں ہماری کشتی ٹھہری تھی مچھلی بہت معلوم ہوئی۔میں نے اس بناء پر کہ لائسنس تو ہمارے پاس ہے ہی، مچھلی کے لئے کنڈی ڈال دی اور دو چھوٹی مچھلیاں پکڑ لیں حضور نے مجھے تو کچھ نہ بتلایا مگر میرے نام لائسنس منگوا کر چپکے سے میرے کوٹ کی جیب میں رکھوا دیا۔جب اگلے روز کنڈی ڈالی تو حضور نے سید محمود اللہ شاہ صاحب مرحوم کو جو اس سفر میں ////////