سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 47
47 قرار نہیں دیتا بلکہ اگلے اور پچھلے سب کفار کے قتل کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا کیونکہ میرے آقا کی عزت اس سے بالا ہے کہ کسی فرد یا جماعت کا قتل اس کی قیمت قرار دیا جائے“ الفضل ۱۹ اگست ۱۹۲۷ء صفحه ۳ ) آنحضرت صلی الشماید آل مسلم کی بلندشان، قوت قدسیہ اور مردوں کو زندہ کرنے کے اعجاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے یہ بھی فرمایا: - " کیا یہ سچ نہیں کہ میرا آقا دنیا کو چلانے کے لئے آیا تھا نہ کہ مارنے کے لئے۔وہ لوگوں کو زندگی بخشنے کے لئے آیا تھا نہ کہ ان کی جان نکالنے کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت دنیا کے احیاء میں ہے نہ اس کی موت میں۔پس میں اپنے نفس میں شرمندہ ہوں کہ اگر یہ دو شخص جو ایک قسم کی موت کا شکار ہوئے ہیں اور بدبختی کی مہبر انہوں نے اپنے ماتھوں پر لگائی ہے اس صداقت پر اطلاع پاتے جو محمد رسول اللہ صلی العمار المسلم کو عطا ہوئی تھی تو کیوں گالیاں دے کر برباد ہوتے ، کیوں اس کے زندگی بخش جام کو پی کر ابدی زندگی نہ پاتے اور اس صداقت کا ان تک نہ پہنچنا مسلمانوں کا قصور نہیں تو اور کس کا ہے۔پس میں اپنے آقا سے شرمندہ ہوں کیونکہ اسلام کے خلاف موجودہ شورش در حقیقت مسلمانوں کی تبلیغی سستی کا نتیجہ ہے۔قانون ظاہری فتنہ کا علاج کرتا ہے نہ دل کا اور میرے لئے اس وقت تک خوشی نہیں جب تک کہ تمام دنیا کے دلوں سے محمد رسول اللہصلی الهادی السلم کی بعض نکل کر اس کی جگہ آپ کی محبت قائم نہ ہو جائے“ الفضل ۱۹۔اگست ۱۹۲۷ء صفحه ۳) اس جگہ ضمنا یہ ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدمہ کی نوعیت اور مخالف و موافق پریس میں اس کی غیر معمولی تشہیر و اشاعت سے یہ مقدمہ مسلم۔غیر مسلم تنازعہ کی صورت اختیار کر گیا۔توہین عدالت کا مقدمہ قائم ہونے پر تمام مشہور مسلم وکلاء بغرض مشورہ جمع ہوئے اور اس سوال پر کہ اس کیس کی پیروی کی سعادت کسے حاصل ہوگی۔بعض بڑے بڑے نامور وکلاء نے اپنا نام پیش ہونے پر کسی نہ کسی وجہ سے عذر خواہی کر لی اور بالآخر قرعہ فال حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے نام نکلا اور آپ کو یہ تاریخی سعادت حاصل ہوئی کہ آنحضرت صلی المیہ اورمسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کی لڑائی میں نہایت جرات و بہادری اور متانت و سنجیدگی سے وکالت کی۔عدالت میں آپ کے بیان کے بعد