سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 515 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 515

457 خاکسار ( حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح موعود کی تحریک پر حضرت مولوی محمد دین صاحب کی وساطت سے اور انہی کی ہیڈ ماسٹر شپ کے زمانے میں ۱۵۔دسمبر ۱۹۲۹ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں سینئر انگلش ماسٹر مقرر ہوا اور اس وقت سے لے کر تا دم تحریر ۵۔مارچ ۱۹۶۸ء اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی سکول میں درجہ بدرجہ ترقی پا کر ۱۹۵۶ء سے بطور ہیڈ ماسٹر خدمت بجالانے کی سعادت پا رہا ہے۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔سکول میں مسلسل خدمت کا موقع پانے کی مدت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے امتیازی اور منفرد حیثیت حاصل ہے۔اَلحَمدُ لِلَّهِ نہ صرف سلسلہ کے اس مرکزی ادارہ میں طویل ترین خدمت کا موقع پانے کے لحاظ سے بلکہ حضرت مصلح موعود کے اہل وعیال کو بیت مسیح موعود میں لمبے عرصہ تک پڑھانے کی سعادت حاصل کرنے کے اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاکسار منفرد ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۳۰ ۱۹۳۱ء میں لڑکیوں کے کالج کی جو پرائیویٹ کلاس کھولی اس میں خاکسار کو بھی بطور معلم انگریزی اور تاریخ مقرر فرمایا۔خاکسار ۱۹۳۷ء تک حضرت مولوی محمد دین صاحب کے ساتھ پہلے ایف۔اے میں اور پھر ایف۔اے کی پہلی کلاس کے بی۔اے میں پہنچ جانے تک بی۔اے کے کورسز بھی پڑھاتا رہا۔اس کالج میں اور حضور کے ارشاد کے ماتحت پرائیویٹ طور پر گھر میں ان دنوں مجھے جن خواتین مبارکہ کو پڑھانے کی سعادت نصیب ہوئی ان میں حضرت سیده ساره بیگم صاحبہ (والدہ صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب) صاحبزادی سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ ( بیگم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب) صاحبزادی سیدہ امتہ الودود مرحومه ( بنت حضرت مرزا شریف احمد صاحب) حضرت سیدہ ام متین صاحبہ ایم۔اے اور صاحبزادی امتہ المتین صاحبہ بھی شامل ہیں۔مجھے محترمہ حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کو پڑھانے کے مواقع غالبا باقی سب خواتین مبارکہ سے زیادہ ملے ہیں اور ان کے بعد صاحبزادی امتہ المتین اور صاحبزادی امتہ القیوم سلمها ( بیگم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب) کا نمبر آتا ہے ان کے علاوہ سیدہ طاہرہ بیگم ( بیگم مرزا مبشر احمد صاحب) اور سیدہ آمنہ طیبہ