سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 508
450 ایران کے لئے مبارک بات ہے کہ وہاں خدا تعالیٰ نے ایسے شخص کو وفات دی جسے زندگی میں دیکھنے والے ولی اللہ کہتے تھے اور جسے مرنے پر شہادت نصیب الفضل ۲۷/۳ مارچ ۱۹۲۸ء صفحه ۹) ہوئی۔“ ٢٠ ایک خادم سلسلہ کی اس رنگ میں قدر دانی مخلصین کے جذبہ اخلاص کے لئے مہمیز کا کام کرتی تھی۔اور فی سبیل اللہ اپنے اموال و نفوس پیش کرنے کی تعداد اور اخلاص میں اور اضافہ ہوتا تھا۔تاریخ احمدیت میں آپ کے متعلق تحریر ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۱۲۔جولائی ۱۹۲۴ء کو شہزادہ عبدالمجید صاحب لدھیانوی کو ایران میں احمد یہ مرکز قائم کرنے کے لئے روانہ فرمایا آپ کے ہمراہ مولوی ظہور حسین صاحب اور محمد امین خان صاحب بھی تھے جن کو بخارا میں احمدیت کا پیغام پہنچانے کا حکم دیا گیا تھا۔حضرت شہزادہ صاحب جو اس تبلیغی وفد کے امیر تھے اپنے دوسرے ساتھیوں سمیت ۱۶۔اکتوبر ۱۹۲۴ء کو ایران کے مشہور شہر مشہد پہنچے اور پانچ چھ دن کے بعد مشہد سے طہران میں تشریف لے گئے اور وہاں نیا دار التبلیغ قائم کیا۔حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحب۔ضعیف العمر بزرگ اور قدیم صحابہ میں سے تھے اور نہایت اخلاص سے اپنے خرچ پر آئے تھے۔مگر اخراجات یہاں آ کر ختم ہو گئے ، پیچھے کوئی جائداد نہیں تھی، مرکز سے مستقل مالی امداد ان کو دی نہیں جاتی تھی اس لئے آخر عمر میں بعض اوقات اپنے زائد کپڑے فروخت کر کے گزارہ کرتے تھے اور جیسا کہ بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے آپ معمولی سی صف اور مختصر سے بستر پر رات بسر کیا کرتے تھے۔یہاں تک نوبت آجاتی کہ کپڑے دھونے تک کے لئے خرچ باقی نہ رہتا۔بایں ہمہ آپ نے آخر دم تک اپنا عہد نبھایا اور اپنی بے نفس خدمات سے باقاعدہ جماعت قائم کر دی ۲۲ فروری ۱۹۲۸ء کو تہران میں ہی انتقال فرما گئے۔“ تاریخ احمدیت جلد ۵ صفحه ۴۴۰ ۴۴۱) حضرت مولانا شیر علی صاحب فرماتے ہیں :- ///////////////