سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 496
438 زیارت نصیب ہو جائے۔چنانچہ حضور نے نور ہسپتال تشریف لے جا کر ان کی عیادت کی حضور نے ان کے فوت ہونے پر ان کا جنازہ پڑھایا اور بعد میں جب کبھی محترم نانا جان کا ذکر آ جاتا تو حضور آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔اسی طرح حضور نے اپنی زندگی میں ہزاروں دوستوں کے جنازوں میں شرکت فرمائی جنازے پڑھائے اور جنازوں کو کندھا بھی دیا کرتے تھے اور بعض دوستوں کے جنازہ کے ہمراہ بہشتی مقبرہ تک بھی تشریف لے جاتے اور تدفین کے بعد تک قیام فرماتے اور دعا کرا کر لوٹتے“ میں ۱۹۵۰ء سے لے کر اگست ۱۹۵۶ء تک لاہور میں مقیم رہا اس عرصہ میں جب بھی حضرت اقدس لاہور تشریف لاتے تو وہاں کی جماعت کے کچھ لوگ مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب کی قیادت میں لاہور سے چھپیں تمہیں میل باہر جا کر استقبال کرتے۔خاکسار کو بھی کئی دفعہ جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔جب حضور اس مقام پر پہنچتے تو ہماری جماعت کے افراد کو دیکھ کر حضور قافلہ رکوا دیتے۔اور امیر جماعت اور دیگر احباب کو شرف مصافحہ بخشتے اور بعد کو ملاقات قافلہ لاہور کو روانہ ہوتا۔اس زمانہ میں حضور رتن باغ “ والی کوٹھی میں آکر قیام فرما ہوتے تھے۔چنانچہ وہاں پہنچ کر بھی جتنے احباب استقبال کے لئے جمع ہوتے ان کو شرف مصافحہ بخشتے ، بعض دوستوں سے گفتگو فرماتے ، اس کے بعد اندر تشریف لے جاتے تھے۔ہمیشہ سب دوستوں سے نہایت خندہ پیشانی اور محبت سے پیش آتے۔ایک موقع پر والد صاحب نے حضور کی خدمت اقدس میں درخواست کی کہ حضور اللہ تعالیٰ نے ہمیں موٹر دی ہے آپ ہماری موٹر میں سفر فرمائیں۔حضور نے یہ کمال عنایت اس خواہش کو منظور فرمایا اور ۵۴-۱۰-۳۰ کو حضور پرنور ہماری موٹر کار میں ربوہ سے لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔اس موقع پر والد صاحب نے جو خط ۵۴-۱۰-۲۹ کو حضور کی خدمت میں بھجوایا اس خط کی پشت پر حضور کے اپنی قلم مبارک سے یہ الفاظ درج ہیں :- و " کل صبح سات بجے اِنْشَاءَ اللهُ “ //////