سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 433
390 آگے رہے ان کے رشتہ دار ان سے تعلقات صرف ان تعلقات کی بناء پر ہیں جو وہ خود رکھتے ہیں میری سوتیلی ساس کے دو بھائی میرے بچپن کے دوست ہیں ڈاکٹر اقبال علی صاحب اور شیخ منظور علی صاحب۔یہ میرے ساتھ سکول میں پڑھتے رہے ہیں دونوں ہی میرے دوست ہیں لیکن اقبال میں اور مجھ میں بچپن سے ہی محبت چلی آتی ہے۔اب اپنے کاموں کی وجہ سے ہم میں خط و کتابت نہیں ہے إِلَّا مَا شَاءَ الله سالوں کے بعد کبھی مگر احمدیت کے تعلق کے علاوہ بھی ذاتی دوستی کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر میں اپنے دل کو معیار قرار دوں تو ہم دونوں کے دلوں میں اب بھی گہری برادرانہ محبت ہے مگر اس دوستی کا موجب احمدیت ہی تھی اور احمدیت ہی ہے رشتہ داری اس کا موجب نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے غرض اس تعلق کو رشتہ داری کا تعلق کہنا ایک لغو بات ہے میری ان میں سے جس وجہ سے محبت ہے دین کی وجہ سے ہے اور اگر وہ تعلق نہ رہے تو مجھے ان سے ذرا بھی تعلق نہیں وہ ایسے ہی اجنبی ہیں جیسے کہ اور اجنبی۔66 ( فاروق ۲۸ ۳۱ جولائی ، ۷۔اگست ۱۹۳۷ء) ملک صلاح الدین صاحب ایم اے قادیان سے لکھتے ہیں :- ایک میرے ہم جماعت مبلغ نے سنایا کہ ایک بہت بڑے تاجر حضور سے ملے۔حضور نے انہیں کہا کہ آپ دونوں بھائیوں میں شکر رنجی کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ مالی لین دین کی وجہ سے ہے۔فرمایا آپ اتنے مالدار ہیں معمولی بات ہے دوسرے کو اس کے مطالبہ کے مطابق روپیہ دے دیں آخر وہ بھائی ہی ہے۔فرمایا میرے پاس ایک دفعہ میرے بھائی مرزا بشیر احمد صاحب آئے اور کہنے لگے کہ سب بہن بھائیوں کی طرف سے میں مشترکہ اراضی فروخت کرتا ہوں اور اپنی اراضیات کے لئے روپیہ استعمال کرنا پڑ جاتا ہے اس وقت میں ستر ہزار روپے کا مقروض ہو گیا ہوں اس لئے یہ کام کسی اور کے سپرد کر دیں۔تو میں نے کہا کہ یہ کام آپ ہی کریں اور ستر ہزار روپے اپنے کھاتے میں ڈال لیا۔وہ صاحب کہنے لگے کہ آپ ہی کا دل گردہ ہے“