سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 432 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 432

389 وو۔۔۔۔اس جگہ میں رشتہ داری کے متعلق بھی کچھ کہہ دینا مناسب سمجھتا ہوں یہ تعلق ایک رنگ میں رشتہ داری ہے اور ایک رنگ میں نہیں بھی۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم فوت ہو چکے ہیں۔انہوں نے بڑی بیوی کو جو میری ساس ہیں اپنے سے الگ کیا ہوا تھا اور آخر تک الگ رکھا ان کو طلاق نہ دی تھی مگر انہیں ساتھ بھی نہیں رکھتے تھے۔میں نے اپنے اطمینانِ قلب کو مدنظر رکھتے ہوئے کبھی ان باتوں میں پڑنے کی کوشش نہیں کی۔اگر دنیا داری کو مدنظر رکھا جائے تو مجھے اپنی ساس کے ان رشتہ داروں سے کوئی خاص رشتہ داری کا تعلق نہیں ہونا چاہئے تھا یہ تعلق مذہبی تعلق ہے اور نہ جنسی۔ہاں چونکہ میری بیوی کی سوتیلی والدہ پختہ احمدی ہیں اور احمدیت کا خاص جوش رکھتی ہیں اس لئے مجھے ان سے اپنی حقیقی ساس کی نسبت زیادہ تعلق رہا ہے اور میں ان سے حقیقی ساس کی نسبت بے تکلف ہوں۔آگے اپنے سالے سالیوں میں میں نے کبھی سگے اور سوتیلے کا فرق نہیں کیا سوائے اس کے کہ عزیزم کیپٹن تقی الدین جو میرے دو حقیقی سالوں میں سے ایک ہیں مجھے خاص طور پر پیارے ہیں چونکہ میں نے ان کو بچپن سے ان کے والد سے لے کر اپنے گھر میں رکھا تھا۔مجھے کبھی تقی الدین اور اپنے بچوں میں فرق محسوس نہیں ہوا میرے لئے آج تک ناصر احمد اور تقی الدین ایک سے ہیں۔یہ ہیں ہمارے خاندانی حالات ان کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ دنیاوی لحاظ سے مجھے مجرم کا کوئی لحاظ ہوسکتا تھا۔میری سوتیلی ساس کا تعلق احمدیت کی وجہ سے ہے وہ پختہ احمدی ہیں اور جوشیلی احمدی ہیں اس لئے کبھی میرے دل پر اس بدمزگی کا اثر جو ڈاکٹر صاحب مرحوم اور ان کی بڑی بیوی میں تھی ان کے بارے میں نہیں پڑا میں نے ان کو ہمیشہ عزت اور محبت کی نگاہ سے دیکھا ہے جیسا کہ قابل احترام بڑے رشتہ دار کو دیکھنا چاہئے اور اب تک اسی نگاہ سے دیکھتا ہوں ان کے بچوں سے بھی ان کے والد اور والدہ کے لحاظ سے میرے تعلقات ہیں۔بعض کی احمدیت سے ذاتی محبت کی وجہ سے زیادہ بعض کی بے پر اوہی کی وجہ سے کم۔////