سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 429 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 429

386 امۃ الرشید صاحبہ کا بیان ہے کہ : - حضور با وجود بے حد عدیم الفرصت ہونے کے اور باوجود اس کے کہ آپ کی اولا د خدا کے فضل سے بہت زیادہ ہے سب کی تربیت اور تعلیم کا خیال رکھتے ہیں۔آپ نہایت ہی شفیق اور رحیم واقع ہوئے ہیں۔سختی کو پسند نہیں فرماتے۔کبھی تا دیبا سختی کا موقع پیش آئے تو کر لیتے ہیں مگر لڑکیوں کے بارہ میں حضور صرف زبانی تادیب کافی سمجھتے ہیں۔حضور کی طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ بچوں کو ہمیشہ سبق آموز کہانیوں اور لطائف سے محظوظ کرتے ہوئے ان کی تربیت فرماتے ہیں۔خود خوش رہتے اور دوسروں کو خوش رکھتے ہیں لیکن خوشی کی گھڑیوں میں بھی حقیقی مقصد کبھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔حضور کی انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ وہ مقصد آپ کے بچوں کی نگاہوں سے بھی اوجھل نہ ہو۔شادی کے موقع پر آپ نے میری بڑی بہن امتہ القیوم بیگم صاحبہ کو اور تحفوں کے ساتھ کچھ کتابیں بھی عنایت فرمائیں اور ہر کتاب پر اپنے ہاتھ سے کچھ نوٹس بھی رقم فرمائے۔مثلاً قرآن کریم پر تحریر فرمایا :- امۃ القیوم! یہ خدا کا کلام ہے۔میری زبان اس کے بارہ میں بند ہے۔میں نے سب کچھ اس سے پایا۔تم بھی سب کچھ ہی اس سے پاؤ۔میرے اللہ! تیرا یہ کلام میری اس بچی اور اس کی اولاد کے دل میں دائمی طور پر جاگزین ہو۔میرے اللہ ! ان کے متعلق میرے کرب کو اس کلام کے طفیل اور اس کے ذریعہ سے دور کر دے۔اور اسے اور اس کی اولا د کو اپنا بنالے۔اے میرے پیارے ! یہ اور اس کی اولاد شیطان اور دجال کے فتنہ سے محفوظ رہیں۔تو ان کا حافظ و ناصر ہو۔میری زندگی میں بھی اور میرے بعد بھی۔اے میرے رب میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔تو ان کو اس مقام سے بھٹکنے نہ دیجیو جو تو نے ہمارے لئے اپنے مسیح کے ذریعہ سے تجویز کیا ہے۔ہم بھگوڑے نہ بنیں۔ہم تیرے دین کے لئے جانیں دینے والے ہوں اور ہماری عزتیں تیرے ہی دین کی خدمت سے وابستہ ہوں۔میرے مولا! میرے درد کا علاج تیرے ہی قبضہ میں ہے۔میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔اب اے میرے شافی ! تو مجھ پر رحم کر کے میری غلطیوں کا