سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 419 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 419

376 اپنی والدہ محترمہ یعنی حضرت اماں جان کے ساتھ ایک لالٹین ہاتھ میں پکڑے کہیں تشریف لے جا رہے ہیں۔محمد حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ حفاظت کے نقطہ نظر سے ان کے پیچھے ہو لئے کہ یہ دونوں مقدس ہستیاں اس وقت کہاں جارہی ہیں انہوں نے دیکھا کہ ان کا رُخ حضرت اماں جان کے باغ کی طرف ہے جہاں حضرت ڈاکٹر (خلیفہ رشید الدین ) صاحب مقیم تھے۔بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت ڈاکٹر صاحب کی طبیعت کی خرابی کی اطلاع ملتے ہی اتنی رات گئے کسی خادم کے بغیر آپ ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تھے حضور اپنی غیر معمولی مصروفیات میں سے اپنے اہل وعیال کیلئے بھی وقت نکالتے اور ان کی ضروریات پوری کرتے اور دلجوئی و دلداری کا پورا خیال رکھتے تھے۔خلیفہ صباح الدین صاحب لکھتے ہیں :- ایک مرتبہ میاں رفیق احمد صاحب اور خاکسار قصر خلافت کی طرف آ رہے تھے کہ ہم نے حضور اور حضرت سیدہ مہر آپا کو سرگودھا روڈ کی طرف جاتے دیکھا اِرد گرد جب نظر ڈالی تو کوئی پہر دار بھی نظر نہ آیا ہم لوگ حیرت سے اور حفاظت کی غرض سے حضور کے پیچھے روانہ ہو گئے۔حضور سڑک پر جا کر احمد نگر کی طرف مڑ گئے ٹریفک چل رہی تھی ہم دوڑ کر حضور کے قریب آ گئے حضور ہمیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ ہمارا سیر کو جی چاہ رہا تھا پہرہ داروں سے آنکھ بچا کر نکل آئے پر تم لوگوں نے پکڑ لیا۔وہ شخص کیوں نہ نڈر اور بہادر ہو جس نے مذہب کی خاطر تمام دنیا سے ٹکر لے لی اس جیسا شجاع اور کون ہو سکتا ہے“ محترمہ صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ حضور کے تعدد ازدواج کے اسلامی و تمدنی تقاضوں کو بہترین رنگ میں ادا کرنے کے متعلق بیان کرتی ہیں :- حضور کی چار بیویاں ہیں۔اور ازدواجی زندگی میں تعدد ازدواج ایک بڑا نازک مرحلہ ہوتا ہے مگر حضور کے گھر کی جو کیفیت ہے اسے خدا تعالیٰ کا فضل اور حضور کی قوت قدسی کا اعجاز ہی کہنا چاہئے کیونکہ اتنے بڑے گھرانے میں جو محبت اور پیار کا نمونہ نظر آتا ہے دنیا اس کی نظیر لانے سے قاصر ہے۔آپ اپنی بیویوں کے بارہ میں کامل عدل وانصاف سے کام لیتے ہیں۔افراد کی نسبت