سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 380 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 380

337 کے جسم کے اندر ایک تھر تھراہٹ سی پیدا ہو رہی ہوتی تھی اس میری محبوبہ نے میرے ساتھ کام کیا ہے اور تھکان کی شکایت نہیں کی۔۔۔۔۔۱۹۲ء میں کشمیر میرے ساتھ گئیں تو وہ ان کے ساون بھادوں کا موسم تھا میں سنجیدگی کی طرف لاتا اور وہ قہقہوں کی طرف بھاگتیں نتیجہ یہ ہوا کہ نہ سنجیدگی رہی نہ قہقہے ساون کی جھڑیوں کی طرح جو آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہوئے تو کشمیر سے واپسی تک بہتے ہی چلے گئے۔۔۔۔میری بیویوں سے ان کی نہ نبھتی تھی۔گنواروں کی طرح لڑتی نہ تھیں مگر دل میں غصہ ضرور تھا ان کے دل میں ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ کسی نہ کسی امر میں ان سے امتیازی سلوک ہو اور چونکہ خدا اور رسول کے حکم کے ماتحت میں ایسا نہ کر سکتا تھا وہ یہ یقین رکھتی تھیں کہ میں ان سے محبت نہیں کرتا اور دوسری بیویوں سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔بعض دفعہ خلوت کی گھڑیوں میں پوچھتی تھیں کہ آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ اور میں اس کا جواب دیتا کہ اس کے جواب سے مجھے خدا تعالیٰ کا حکم روکتا ہے۔آج اگر انہیں اللہ تعالیٰ اس دنیا میں آ کر میرے دل سے نکلتے ہوئے اُن شعلوں کو دیکھنے کا موقع دے جو دل سے نکل نکل کر عرش تک جاتے ہیں اور رحم کی استدعا کرتے ہوئے عرش کے پایوں سے لپٹ لپٹ جاتے ہیں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ ان کے سوال کا کیا جواب تھا۔۔۔۔۔۔۔مہمان نواز انتہاء کی تھیں۔بعض دفعہ اپنے اوپر اس قدر بوجھ لا دلیتیں کہ میں بھی خفا ہوتا کہ آخر مہمان خانہ کا عملہ اسی غرض کے لئے ہے تم کیوں اس قدر تکلیف میں اپنے آپ کو ڈال کر اپنی صحت برباد کرتی ہو آخر تمہاری بیماری کی تکلیف مجھے ہی اُٹھانی پڑتی ہے۔پندرہ جنوری کو ان کے دل کی حالت خراب ہونی شروع ہو گئی اُس وقت ڈاکٹروں نے توجہ کی اور انسانی خون بھی جسم میں پہنچایا گیا اور حالت اچھی ہوگئی۔۔۔میرے قادیان جانے کے بعد ہی ان کی حالت خراب ہوگئی۔۔۔۔۔اس کے بعد تندرستی کی حالت ان پر پھر نہیں آئی۔دو نرسیں اُن پر رات اور دن کے پہرہ کے لئے رکھی جاتی تھیں اور چونکہ ان کا خرچ پچاس ساٹھ روپے روزانہ ہوتا تھا مجھے معلوم ہوا کہ اس کا ان کے دل پر